خمیر

دیکھو فیصلے ہم پر شروع میں ڈال دیے جاتے ہیں چوری چوری ہماری مرضی پوچھے بنا۔ہر انسان کے اندر ایک خمیر ہوتا ہے، جیسے سرسوں کے بیج میں یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ اس کا رنگ زرد ہو گا، تربوز کاٹو تو اس کے ہر بیج کا یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ اس سے جنم لینے والا تربوز اندر سے سرخ ہو گا۔۔۔ دیکھو قیوم نہ تربوز اپنی خوشی سے سرخ ہوتا ہے، نہ چنبیلی اپنی مرضی سے خوشبودار۔۔۔ سب کے بیج کا خمیر ہے جو آدمی کو چور بناتا ہے، اس کے وجود کو غارت گری کا خمیر لگا ہوتا ہے کہیں۔ نیک سازگار ماحول میں شاید ساری عمر اس کی یہ خوبی نہ کھلے، لیکن جس کے اندر غارت گری کا خمیر نہیں ہو گا۔۔۔ وہ ناسازگار ماحول میں کچھ نہیں کر پائے گا۔۔۔ کبھی چور نہیں بن سکے گا۔۔۔ یار میرے، سیدھی سی بات ہے سیب کو تم بھی گرتا دیکھتے ہو، نیوٹن نے بھی دیکھا، تم کشش ثقل ایجاد نہیں کرتے، وہ ایجاد کر جاتا ہے۔۔۔ کیونکہ تمھارے بیج میں وہ راستہ نہیں تھا، جو ایک سائنسدان کا ہوتا ہے۔

بانو قدسیہ کے ناول، راجہ گدھ سے اقتباس

بشکریہ: کائنات سبحانی