موت کی حقیقت - اقتباس

میرے چچا کے دوست کا ایک جوان سال بیٹا کسی وجہ سے فوت ہوگیا اکیلا ہی اس کا بیٹا تھا اور وہ بڑا صوفی آدمی تھا - میرے چچا نے نمائندے کی طور پر مجھے بھیجا کہ جا کے تم افسوس کر کے آؤ اور کہنا کہ جوں ہی میں ٹھیک ہوا، میری صحت بحال ہوئی، میں خود حاضری دونگا - جب میں وہاں گیا تو بہت سے لوگ جمع تھے اور وہ چارپائی پی بیٹھے تھے میں جب ان کے قریب گیا تو انھوں نے پہچانا - اور مجھے کہنے لگے، اشفاق میاں دیکھو ہم جیت گئے اور سب دنیا ہار گئی، ہم کامیاب ہوگئے اور باقی کے سب لوگ، بڑے بڑے ڈاکٹر، بڑے حکیم، اور بڑے بڑے نامی گرامی طبیب ہار گئے - میں پریشان کھڑا تھا، ان کے سامنے کہ یہ کیا بات کہ رہے ہیں - کہنے لگے، دیکھئے ہمارا یار جیت گیا اور سارے ڈاکٹر فیل ہوگئے - ہم ایک طرف تھے اور یہ لوگ سارے ایک طرف تھے - وہی ہوا جو ہمارے یار نے چاہا اور جو اس نے چاہا تھا ، وہی ہم نے چاہا -
 میرے رونگھٹے کھڑے ہو گئے ۔ میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی، ایک اکلوتا اس کا بیٹا، جواں سال، اور بار بار یہی بات کہ رہا ہے - کچھ وقت، ایسی کیفیت درد کی اور کرب اور الم کی بھی بن سکتی ہے لیکن یہ انداز بتا رہا تھا کہ وہ یہ بات اندر سے کہ رہے ہیں اور اس کے اوپر ان کا پورا ایمان ہے اور وہ ہل نہیں رہیں ہیں اس مقام سے - اور کہتے تھے جو الله نے کیا وہی درست اور وہی ٹھیک ہوگا جو الله کریگا - اور چونکہ ہم الله کی سائیڈ کے ہیں اس لئے جب الله کامیاب ہوتا ہے اور وہ ہر بار کامیاب ہوتا ہے ، تو ہم کامیاب ہو گئے ہیں - یہ میرے لئے ایک عجیب بات تھی - میں اس وقت ایف - اے کر چکا تھا، لیکن نہ میرے پاس الفاظ تھے ، نے میں بڑے سلیقے سے ان کے ساتھ افسوس کر سکتا تھا جس کے لئے مجھے بھیجا گیا تھا - افسوس کے لئے میں چپ چاپ کھڑا رہا - انھوں نے چائے پلائی ، کھانا وہاں کھلانے کا رواج تھا - اگلے دن واپس آئے - میں نے آ کر ساری بات چچا سے کہی - انھوں نے کہا کہ وہ بہت مضبوط ، اور الله کو ماننے والے شخص ہیں۔

از اشفاق احمد زاویہ موت کی حقیقت صفحہ 137

 بشکریہ حسن مجتبیٰ