علم اور دانش

میں نے تائے سے کہا تایا سن میں تمہیں ایک بڑے کام کی بات بتاتا ہوں - وہ بڑے تجسس سے میری طرف دیکھنے لگا - میں نے اسے بتایا کہ یہ جو مکھی ہوتی ہے اور جسے معمولی اور بہت حقیر خیال کیا جاتا ہے یہ دیکھنے اور بینائی کے معاملے مین تمام کیڑوں سے تیز ہوتی ہے کیونکہ اس کی آنکھوں میں تین ہزار محدب شیشے یا لینز لگے ہوتے ہیں اور یہ ہر زاویے سے دیکھ سکتی ہے - اور یہی وجہ ہوتی ہے کہ جب بھی اور جس طریقے سے بھی اس پر حملہ آور ہوں ، یہ اڑ جاتی ہے - اور اللہ نے اسے یہ بہت بڑی اور نمایاں خصوصیت دی ہے - اب مین سمجھ رہا تھا کہ اس بات کا تائے پر بہت رعب پڑے گا   
!کیونکہ میرے خیال میں یہ بڑے کمال کی بات تھی لیکن تایا کہنے لگا
" لکھ لعنت ایسی مکھی تے جندیان تن ہزار اکھاں ہوون او جدوں وی بہندی ائے گندگی تے بہندی ائے "
-ایسی مکھی پر لعنت بیشمار ہو جس کی تین ہزار آنکھین ہوں اور وہ جب بھی بیٹھے گندگی پر ہی بیٹھے
-خواتین و حضرات  ! یہ بات  ہے دانش کی - ایسی باتیں علم کے زمرے میں نہیں آتی ہیں 

از اشفاق احمد  زاویہ 3 فوک وزڈم  صفحہ 94