محبت اور اداسی

-محبت سے غم اور اداسی ضرور پیدا ہوگی - وہ محبت ہی نہیں جو اداس نہ کر دے 
اگر چاہتے ہو کہ محبت ابدی ہو جائے اور پائیدار ہو جائے تو چھڑی محبت ایسا نہ کر سکے گی - اس کو طاقت عطا کرنے کے  لیے اس میں عبادت کو شامل کرنا پڑے گا -عبادت  کے بغیر محبت اداس رہتی ہے اور محبت ہی عبادت کا رخ بتاتی ہے - محبت ایک ہونے کی آرزو کرتی ہے -اس کی طرف بڑہتی ہے 

- من تو شدم تو من شدی کا رنگ اپناتی ہے - لیکن یہ ایک مک ہونے کا وعدہ نہیں کرتی 
 -اس آرزو کو مکمل کر کے نہیں دے سکتی ، خواہش پوری نہیں کرتی ، اور یہی اداسی کا سبب بن جاتا ہے

 -چندھیانے والی روشنی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے  - زیادہ شیرینی کڑوی ہو جاتی ہے  
 -محبت دل کو پکڑ لیتی ہے - اداس کر دیتی ہے 

از اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 439