" دال میں کالا "


-اصل میں بات یہ ہے کہ جب کسی نے یہ کہا کہ یہاں غلط ہے 
- اس جگہ دال میں کچھ کالا ہے  تو آپ نے فوراً اسے تسلیم کر لیا - اس کے آگے سر جھکا دیا 
- جب کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ اچھا ہے - یہ خوب ہے - یہ نیکی ہے
- تو تم رک جاتے ہو - ماننے سے انکار کر دیتے ہو - خاموش ہو جاتے ہو 
- برائی پر تم کو پورا یقین ہے - سو فیصد اعتماد ہے 
 - شیطان پر اور ابلیس پر پورا یقین ہے - لیکن خدا پر نہیں 

 ایک محاورہ ہے کہ 

 - یہ اتنی اچھی بات ہے کہ سچ ہو ہی نہیں سکتی 
 - یہ کبھی نہیں ہوتا کہ کوئی کہے کہ یہ اتنی بری بات ہے کہ سچ ہو ہی نہیں سکتی 
 - بہت بری اور بہت خراب بات کبھی بھی  غلط نہیں لگتی - ہمیشہ ٹھیک ہی لگتی ہے 
-تم نے انسانیت پر اس قدر بے اعتباری شروع کر دی ہے
- اس قدر بے اعتمادی کا اظہار کر دیا ہے کہ اب تم کو انسانوں کی طرف سے اچھی خبر ٹھیک ہی نہیں لگتی
اگر کوئی آکرآپ سے یہ کہے کہ فلاں نے معراج انسانیت حاصل کر لی ہے اور جلوہ حقیقی سے روشناس ہو گیا ہے ، تو تم
کبھی یقین نہیں کرو گے - سنو گے اور کہو گے یہ سب افسانہ ہے- گپ ہے
یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص کو جلوہ حقیقی نظر آجائے جب کہ ہم کو کبھی نظر نہیں آیا - جس چیز کا تجربہ ابھی مجھ کو نہیں ہوا وہ کسی اور کو کس طرح ہو سکتا ہے
-تم لوگوں کے بارے میں مثبت سوچ ہی نہیں سکتے
- کتنی بھی کوشش کرو تم لوگوں کے بارے میں شک میں ہی مبتلا رہو گے


از اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ387