صاحب اثمار

بابا جی کی آواز آئی  تو سیکرٹری صاحب جوتی پہنے بغیر ، ننگے پاؤں ان کی طرف بھاگے ۔ 
میاں مثنوی نے کہا ! " اس طرح سے بھاگنے والے لوگ انعام یافتہ ہوتے ہیں ۔ صاحب اثمار ۔ پھلوں سے لدے ہوئے اور یہ سب معیت کا اثر ہوتا ہے ۔ گھلے ملے ہونے کا ۔ ایک ساتھ ہونے کا " ۔
میں نے  کہا " میاں مجھے تیری بات سمجھ نہیں آئی ،  تو جب بھی بات کرتا ہے پہیلیوں میں کرتا ہے اور تیری پہیلیاں اصل کی نشاندہی  کرنے سےقاصر ہوتی ہیں  " ۔
میاں ہنس پڑا اور تالی بجا کر بولا  " رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع میں داخل ہونا ، مسکینوں اور لرزنے والوں کے ساتھ ہو کر رہنا ہے  "۔
 کیا تو نے دیکھا نہیں !  " پھل نہ درخت کے ڈالے کو لگتا ہے نہ اس کے مضبوط تنے کو  ۔ پھل جب بھی لگتا ہے لرزنے والی شاخ کو لگتا ہے  ، اور جہاں بھی لگتا ہے کانپتی ہوئی ڈالی کو لگتا ہے ۔
جس قدر شاخ رکوع میں جانے والی ہوگی اسی قدر پھل کی زیادہ حامل ہوگی ۔ 
اور فائدہ درخت کو اس کا یہ کہ ، پھل کی وجہ سے ڈالا بھی کلہاڑے سے محفوظ رہتا ہے اور تنا بھی ۔  درخت کی بھی عزت ہوتی ہے  اور درخت کی وجہ سے سارا باغ بھی عزت دار بن جاتا ہے "۔ 

اشفاق احمد  بابا صاحبا  صفحہ 376