ایمان

دیکھو مجھے نظر تو نہیں آتا مگر میرا ایمان ہے  کہ اس کمرے میں ریڈیو کی لہریں بھری پڑیں ہیں ۔ ٹی وی کی لہریں ناچ رہی ہیں اور میں ریڈیو پر یا ٹی وی پر اپنی پسند کا سگنل پکڑ سکتا ہوں  ۔ اسی طرح سے میرا ایمان ہے کہ یہاں خدا کی آواز اور خدا کے احکام  موجود ہیں  اور میں اپنی ذات کے ریڈیو پر ان سگنلوں کو پکڑ سکتا ہوں لیکن اس کے لیے مجھے اپنی ذات کو ٹیون کرنا پڑیگا ۔ 

اور ایمان کیا ہے ؟ خدا کی مرضی کو اپنی مرضی بنانا 
ایک اختیار  ہے  ، پسند ہے ۔ کوئی مباحثہ یا مکالمہ نہیں ۔ یہ ایک فیصلہ ہے مباحثہ نہیں ہے ۔  یہ ایک کمٹمنٹ  ہے کوئی زبردستی نہیں ہے ۔  یہ تمہارے دل کے خزانوں کو بھرتا ہے اور تمہیں مالا مال کرتا  رہتا ہے ۔ 

اشفاق احمد  بابا صاحبا  صفحہ 540