موت

ایک روز میں جمعہ پڑہنے جا رہا تھا - راستے میں ایک چھوٹا سا کتا ریہڑے کی زد میں آگیا - اور اسے بہت زیادہ چوٹ آگئی وہ جب گھبرا کر گھوما تو تو دوسری طرف سے آنے والی جیپ اس کو لگی ، وہ بالکل مرنے کے قریب پہنچ گیا اسکول کے دو بچے یونیفارم میں آرہے تھے - وہ اس کے پاس بیٹھ گئے - میں بھی ان کے قریب کھڑا ہو گیا - حالانکہ جمعے کا وقت ہو گیا تھا  ان بچوں نے اس زخمی پلے کو اٹھا کر گھاس پر رکھا - اور اس کی طرف دیکھنے لگے - ایک بچے نے جب اس کو تھپتپایا تو اس نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں وہاں ایک فقیر تھا - اس نے کہا  واہ ، واہ ، واہ ! سارے منظر کو دیکھ کر بڑا خوش ہوا  ، جب کہ ہم کچھ آبدیدہ اور نم دیدہ تھے اس فقیر نے کہا ، اب یہ اس سرحد کو چھوڑ کر دوسری سرحد کی طرف چلا گیا - وہ کہنے لگا کہ موت یہ نہیں تھی کہ  اس کتے نے آنکھیں  بند کر لیں ، اور یہ مر گیا اس کی موت اس وقت واقع ہوئی تھی جب یہ زخمی ہوا تھا ، اور لوگ اس کے قریب سڑک کراس کر رہے تھے اور کوئی رکا نہیں تھا  - پھر اس نے سندھی کا ایک دوہڑا پڑہا - اس کا مجھے بھی نہیں پتہ  کہ کیا مطلب تھا - اور وہ آگے چلا گیا - وہ کوئی پیسے مانگنے والا  نہیں تھا - پتہ نہیں کون تھا اور وہاں کیوں آیا تھا ؟
وہ سپردگی جو اس اسکول کے بچے نے بڑی دل کی گہرائی سے اس پلے کو عطا کی ، ویسے ہی سپردگی ہم جیسے پلوں 
 -کو خدا کی طرف سے بڑی محبت اور بڑی شفقت سے اور بڑے رحم اور بڑے کرم کے ساتھ عطا ہوتی ہے 
 لیکن یہ ہے کہ اسے  موصول کیسے کیا جائے  ؟

اشفاق احمد زاویہ 2  ایم - اے  پاس بلی صفحہ 61