داماد

ہمارے گاؤن میں ایک لڑکی تھی ، جوان تھی مگر شادی نہیں ہو رہی تھی ۔  ہم اسے کہتے کہ تو بھی دعا مانگ اور ہم بھی  مانگتے ہیں کہ اللہ تیرا کہیں رشتہ کرا دے ۔ 
اس نے کہا نہیں ، میں اپنی ذات کے لیے کبھی دعا نہیں مانگوں گی ۔ مجھے یہ اچھا نہیں لگتا ۔ ہم نے کہا کہ بھئی تو تو پھر بڑی ولی ہے  جو صرف دوسروں کے لیے ہی دعا مانگتی ہے ۔ اس نے کہا ولی نہیں ہوں  ، مگر دعا صرف مخلوق خدا کے لیے مانگتی ہوں ۔ وہ اللہ زیادہ پوری کرتا ہے ۔ ہم اس کی اس بات پر بڑے حیران ہوئے تھے ۔ وہ ہمیشہ یہی دعا مانگا کرتی تھی کہ " اے اللہ  میں اپنے لیے کچھ نہیں مانگتی ، میں اپنی ماں کے لیے دعا مانگتی ہوں کہ اے خدا میری ماں کو ایک اچھا  خوبصورت سا داماد دے دے ۔  تیری بڑی مہربانی ہوگی ۔ اس سے میری ماں بڑی خوش ہوگی ، میں اپنے لیے کچھ نہیں چاہتی۔ 
وہ ذہین بھی ہو اس کی اچھی تنخواہ بھی ہو ۔ اس کی جائیداد بھی ہو ۔ اس طرح کا داماد میری ماں کو دے دے  "۔

 اشفاق احمد زاویہ 2 ہاٹ لائن  صفحہ 98