غلامی

مائیکل اینجلو ویٹی کن گرجے کی چھت پینٹ کر رہا تھا - تو ایک سایہ بار بار اس کو تنگ کرتا تھا اور اس کے نقوش کی راہ میں حائل ہوتا تھا - مائیکل اینجلو جھلا اٹھا اور بڑ بڑانے لگا  - لیکن جب اس نے غور کیا تو وہ سایہ اسی کے وجود کا سایہ تھا  جو اس کے اورتصویر  کے درمیان حائل تھا - اس نے بتی کو ایک کٹورے میں اس انداز سے رکھا کہ اس کی روشنی سیدھی تصویر پر پڑے -  پھر اس نے تصویر کشی کا عمل سکون سے شروع کر دیا - کیونکہ اس کا اپنا سایہ راہ میں حائل نہیں ہو رہا تھا
ایک بات ہمیشہ یاد رکھو اور اس کو سونے کے حروف میں لکھ کر اپنے سامنے لٹکا لو کہ تم ان لوگوں کے غلام ہو جن کی تم تصدیق کے اور موافقت کے تعریف کے خواہاں ہو -  تم جلد ہی محسوس کر لو گے کہ تمہاری جنگ لوگوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ اپنے ذہن کی کج روی کی مابین ہے -  ذہن کو درست کر لو ، پھر سب ٹھیک ہے 

اشفاق احمد  بابا صاحبا صفحہ 550