نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

نسخہ

 خود بیداری اور خود نگہداری کے لیے آج آپ کو ایک حکیم لقمان جیسا نسخہ عطا کرتے ہیں ، ضرور سننا اور پھر اس پر عمل کرنا۔
آج کے بعد سے لوگ آپ کے ساتھ جو بھی سلوک کریں  یا آپ کے ساتھ جو بھی رویہ اختیار کریں  یا آپ کے  بارے میں جو بھی کہیں ان کو ایسا کہنے دیں اور ان کی راہ میں حائل نہ ہوں ان کے رویے اور ان کی طبع میں نہ تو کوئی تبدیلی پیدا کریں  اور نہ ہی کسی طرح سے ان پر اثر انداز ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  نہ ہی ان کے کہنے اور کرنے پر نا خوشی کا اظہار کریں ، نہ ہی نفرین کریں ،اور نہ ہی اس کا تذکرہ اوروں سے کریں  اس موضوع پر زبان ہی نہ کھولیں ۔
یہ ان کے عمل نہیں جو ہم کو مضطرب کرتے ہیں  اور ہمیں وسوسوں میں گھیرتے ہیں  بلکہ یہ ہماری اپنی غیر محفوظیت کا خوف ہوتا ہے ۔
تو جناب ! ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ فرد  خود میں تبدیلی پیدا کرے نہ کہ اپنے عزیزوں رشتےداروں میں تبدیلیاں پیدا کرتا پھرے  اور ان کے دروازوں پر جا کر دبکے مارتا پھرے ۔
  جب تم لوگون کو اپنی من مانی کرنے دو ( اور ایسا وہ ہر حال میں کریں گے ) اور ان کی راہ کی رکاوٹ نہ بنو  تو تمہارے اندر ایک حیرت انگیز تبدیلی  رونما ہوگی ۔ آپ پہلی مرتبہ دیکھیں گے کہ ان کے رویے پر آپ کا افسوس یا ان کے رویے پر آپ کی سرزنش ہی  آپ کی بیچینی اورآپ کے تردد کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔ ان کو آپ کی بیچینی یا تردد سے کوئی واسطہ نہیں  ہے اور وہ اس کی بنیاد نہیں ہیں ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 504 

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…