نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

گناہ

یہ سچ نہیں ہے کہ مولوی نے ڈرا ڈرا کر  لوگوں کو خوفزدہ کر کے  گناہ کی طرف دھکیل دیا -  اور ان کے اندر جرم کا اور قصور کا تصور پیدا کر دیا - اور اس تصور سے خود فائدہ اٹھا کر ان کا لیڈر بن کر بیٹھ گیا ۔
یہ بات نہیں گناہ کا تصور انساں کے اندر میں ہے - انسان کے اندرونی توازن میں جب بے وزنی پیدا ہو جاتی ہے - جب اس کے اندر عزت نفس کی کمی واقع ہو جاتی ہے - خدا سے بیگانگی پیدا ہوتی ہے ، علیحدگی پیدا ہوتی ہے تو وہ گناہ کا شکار ہو جاتا ہے ۔
مولوی کے خوف دلائے بغیر ، اس کے جھڑکے سہے بغیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
 یہ ( گناہ ) انسانی ضمیر کے تانے بانے اور اسی کی تار و پود کا ایک حصہ ہے - گناہ مذہب  نے ایجاد نہیں کیا یہ اس نے دریافت کیا ہے - اور اس کے اثرات کا انسان کے وجود پر جس جس طرح کا بوجھ پڑتا ہے ، اس کا مطالعہ کیا ہے ، اور ساتھ ہی ساتھ جس کے خلاف گناہ کیا ہے اس کا مشاہدہ کیا ہے ۔ 

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 501

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…