نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

November, 2012 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ہمدردی

زندگی میں کبھی ہمدردی کے طلبگار نہ ہونا ۔ خوش رہنا ، کلیلیں بھرنا  اور تم کو محبت ملے گی ۔  ہمدردی کے طالب کو کبھی بھی محبت نہیں ملتی ۔  ہمدردی تمہارے خزانے کو کبھی بھی نہیں بھر سکتی ۔

اشفاق احمد  بابا صاحبا صفحہ 543

soccor

مجھے یاد ہے جب میں لندن میں تھا ، وہاں ساکر(فٹبال) کے دیوانہ وار مقابلے ہوا  کرتے تھے ۔ تو ایک جادو قدم کھلاڑی نارمن تھا جس کے آگے نہ بال رکتا تھا  نہ کوئی کھلاڑی ٹھرتا تھا ۔  وہ جب بھی کھیلتا اس کا والد ضرور آ کر تماشائیوں میں بیٹھتا اور اپنے بیٹے کا کھیل دیکھتا اور بیٹا بھی اپنے باپ کو کھیل دکھانے کے لیے  سر دھڑ کی بازی لگا دیتا اور پھر یوں ہوا کہ اس کا باپ فوت ہو گیا اور نارمن بجھ گیا ۔ اس کے کھیل مین وہ قوت اور تیزی نہ رہی ۔  ایک روز اس نے کہا کوچ ، باوجود اس کے کہ میرا باپ اس دنیا مین نہیں ہے ، میں اس کے لیئے کھیل کھیلنا چاہتا ہوں ، کوچ نے کہا ، بہت خوب ہم اس کے لیئے مخصوص کرسی خالی رکھیں گے ۔ بس پھر اس روز جو کھیل نارمن کھیلا اس کی مثال سوکر" کی دنیا میں کہیں نہیں ملتی ۔ پانچ ہزار تماشائیوں کی تالیوں کی گونج میں کھیل کا میدان لرزتا رہا ، گونجتا رہا ، پکارتا" رہا ، نعرے مارتا رہا۔  گیم جیت کر جب نارمن ڈریسنگ روم میں گیا تو اس نے کوچ کو بتایا کہ آج کا کھیل میں نے اپنے باپ کے لیے کھیلا ۔ جب تک وہ زندہ رہا اس نے عمر بھر ایک مرتبہ بھی میرے کھیل کو مس نہیں کیا،باقاعدگی سے آ…

تخلیق کار

عورتوں کو واقعات اور حادثات من حیث المجموع یاد رہتے ہیں ۔ اور مرد کو ان کی تفصیلات یاد رہتی ہیں ۔ عورت خالق اورمرد کرافٹس مین ہے ۔ عورت اپنے اندر ہی سے پرانا سرانا خام مواد لے کر ایک جیتا جاگتا برینڈ نیو بچہ تخلیق کر دیتی ہے۔اور مرد بھاگ بھاگ کر اور چار دانگ عالم سے چھوٹی چھوٹی چیزیں اکٹھی کر کے بڑی چابکدستی کے ساتھ  ایک مووی کیمرا،  ایک وی ٹی آر ریکارڈر یا ایک فوٹو اسٹیٹ مشین بنا سکتا ہے ۔ مرد پرفیکشنسٹ ہوتا ہے اس لئیے اس کی نظر ہمیشہ جزئیات پہ رہتی ہے ۔ زندگی اور محبت کے میدان میں وہ چھوٹے چھوٹے پیچ اور ڈھبریاں کستا چلتا ہے اور اس کا ایک پیچ ڈھیلا ہو جانے سے ساری مشین لڑکھڑانے لگتی ہے ۔ عورت کے تانے بانے کا مواد ایک ہی ہوتا ہے کہیں سے ایک تار بھی ٹوٹ جائے تو کپڑے کی مجموعی نوعیت میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ 
اشفاق احمد سفر در سفر صفحہ 100

انٹرٹینمنٹ

ایک صوفی تھکا  ہارا جنگل میں جا رہا تھا ۔ اور چلتے چلتے ایک ایسی جگہ پر پہنچ گیا جہاں جنگل کے جانوروں کا اجتماع
تھا اور محفل مباحثہ گرم تھی ۔ اس صوفی کو چونکہ جانوروں کی بولیوں کا علم تھا اس لیے وہ رک کر سننے لگا ۔ مباحثے کی صدارت ایک بوڑھے شیر کی سپرد تھی ۔ سب سے پہلے لومڑی اسٹیج پر آئی اور کہا  بردارنِ دشت سنئیے اور یاد رکھئیے کہ "چاند سورج سے بڑا ہے اور اس  زیادہ روشن ہے"۔  ہاتھی نے اپنی باری پر کہا " گرمیاں سردیوں کے مقابلے  میں زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہیں " ۔ جب باگھ اسٹیج پر آیا تو سارے جانور اس کی خوبصورتی سے مسحور ہو گئے ۔ اس نے اپنے پیلے بدن پر سیاہ دھاریوں کو لہرا کر کہا "سنو بھائیو ! دریا ہمیشہ سے اوپر کو چڑہتے ہیں " ۔  صوفی نے شیر ببر سے کہا صاحبِ صدر ! یہ سب غضب کے مقرر ہیں اور ان کی وضاحت نے اس محفل کو ہلا کر رکھ دیا ہے لیکن میں حیران ہوں کہ سارے مقررین نے سارے ہی بیان غلط دیئے ہیں اور ہر بات الٹ کہی ہے۔  سامعین کو یا تو پتہ نہیں یا انہوں نے توجہ نہیں دی یا پھر وہ لا تعلقی سے سنتے رہے ہیں ۔ ایسی احمقانہ اور غلط باتیں  کرنے کی کس نے اجازت دی۔ شیر ن…

غفور الرحیم

میرے تایا بیمار تھے اور کوما میں تھے ۔ کبھی وہ کومے ، سے باہر آجاتے اور کبھی ان پر پھر وہی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔  اور ہم سب بہن بھائی مونڈھے پہ بیٹھے ان کو اٹینڈ کرتے تھے ۔میں اس وقت سیکنڈ ایئر میں پڑھتا تھا ۔ ایک دن انہیں اٹینڈ کرنے کی ڈیوٹی میری تھی ۔  وہ مجھ سے کہنے لگے کہ  " یہ جو اللہ ہے کیا وہ انسانوں کے گناہ معاف کر سکتا ہے "۔ میں نے کہا کہ جی اللہ تو کچھ بھی کر سکتا ہے اور گناہوں کو معاف کرنے میں تو وہ بڑا رحیم ہے اور غفورالرحیم ہے۔ وہ تو کہتا ہے کہ انسان اس سے گناہوں کی معافی مانگے ۔ تایا کہنے لگے  یار یہ تو بڑی اچھی بات ہے ۔ جب انہوں نے یہ کہا تو ان کے چہرے پہ کچھ بشاشت سی پیدا ہوئی اور میں نے ان کی خوشنودی  کے لیے مزید کہا کہ تایا آپ نے کونسے ایسے گناہ کیے ہیں  کہ آپ اس قدر پریشانی کے عالم میں ہیں ۔ آپ تو ہمارے ساتھ بڑے چنگے رہے ہیں یہ سن کر انہوں نے کہا کہ  " shut up , its nothing between you and me , its between me and my ALLAH ." شٹ اپ ،  " تمہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چائیے یہ میرا اور میرے اللہ کا معاملہ ہے "۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3 ڈ…

عشقِ حقیقی

ہم نے کئی بیماریوں پر قابو پا لیا ہے ۔ یا کم ازکم انہیں محدود کر کے مقید کردیا ہے  ۔ لیکن اس صدی کی سب سے خطرناک بیماری وہ ہے کہ جب انسان اس میں مبتلا ہو جاتا ہے تو خود کشی  پر مائل ہو جاتا ہے ۔ اپنے آپ کو تباہ کرنے کی تدبیریں کرنے لگتا ہے ۔ اس بیماری کو کیا نام دوں ۔ کہ اس کو کوئی نام دیا جانا بہت ہی مشکل ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب انسان کے دل کے اندر محبت کی باؤلی سوکھنے لگتی ہے  تو یہ بیماری پیدا ہوتی ہے ۔ اس دنیا میں سب سے بڑا افلاس محبت کی کمی ہے ۔  جس شخص میں محبت کرنے کی صلاحیت ہی پیدا نہیں ہوئی وہ اپنے پرائیویٹ دوزخ میں ہر وقت جلتا رہتا ہے ۔  جو محبت کر سکتا ہے وہ جنت کے مزے لوٹتا ہے ۔ لیکن محبت کا دروازہ ان لوگوں پر کھلتا ہے جو اپنی انا اور اپنے نفس سے منہ موڑ لیتے ہیں ۔  اپنی انا کو کسی کے سامنے پامال کر دینا مجازی عشق ہے ۔ اپنی انا کو بہت سوں کے آگے پامال کر دینا عشقِ حقیقی ہے 
اشفاق احمد   زاویہ 3 محبت کی حقیقت صفحہ 239

صبر و سکون

کسان ہل جوتتا ہے ۔ کھاد ملاتا ہے ۔ مٹی نرم کرتا ہے ، بیج ڈالتا ہے ، پانی دیتا ہے اور پھر پودے کے انتظار میں کھڑا ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھولوں کو پودوں سے زبردستی کھینچ کر نہیں نکالا جا سکتا ۔ اس کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ خاموشی کے ساتھ  اورجرئت کے ساتھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور محبت کے ساتھ ! ! ۔ اللہ کی محبت کا بیج بھی ایسے ہی بویا جاتا ہے اور پھر اسی طرح روحانی مراد کا بھی انتظار کیا جاتا ہے ۔ خاموشی سے محبت سے ،  جرئت سے ! جو کوئی بھی اس میں بے چینی اور بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے وہ مراد حاصل نہیں کرتا۔ بے صبری بار آوری کے لیے مناسب کھاد نہیں ۔  ابدی پھولوں کے حصول کے لیے ابدی انتظار کی ضرورت ہے اور جو ابدی انتظار کا تہیہ کر لیتا  اس کے لیے فٹ سے بھی دروازہ کھل جایا کرتا ہے ۔ ہمارے اندر ، اندر کی طاقت موجود ہے اور کافی مقدار میں موجود ہے ۔ لیکن ہم بے صبری کے ساتھ اس کو گنوا دیتے ہیں ۔ گدلے جوہڑ کے اندر اپنے چھکڑوں کو تیزے سے ہانکتے ہوئے گذارنا اور بھی گدلاہٹ پیدا کرتا ہے ۔  آرام سے چلو گے تو سب گار بیٹھ جائے گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ہم پر لازم ہے کہ ہم محض شاہد بنیں ۔ دیکھنے والے بنیں ۔ ذہن خودبخود پا…

وظیفہ

کسی شخص نے رزق میں اضافہ کا وظیفہ پوچھا ۔ ارشاد ہوا کہ اگر وظائف پر روزی موقوف ہوتی تو  دنیا میں ملاؤں سے زیادہ کوئی امیر نہ ہوتا ۔  لیکن وظیفہ تو اس معاملے میں الٹا اثر کرتا ہے ۔ کیونکہ دنیا ایک میل کچیل ہے اور نامِ خدا ایک صابن ۔ بھلا صابن سے میل کیونکر بڑہ سکتا ہے ۔ تم نے کسی وظیفہ خواں کے گھر پر ہاتھی گھوڑے موٹر گاڑی دیکھی ہے ۔ خدا کا نام تو صرف اس لیے ہے کہ اس کی برکت سے دنیا کی محبت دل سے دور ہو جائے۔ نہ اس لیے کہ دنیا میں اور زیادہ آلودہ ہو ۔ پھر اس کو ایک وظیفہ بتلا کر کہا گھر پر پڑھا کرنا خدا کے گھر میں دنیا طلبی کا کیا کام ۔ مسجد میں نہ پڑھنا ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 410

مرد

جو مرد اپنی کنگھی  پٹی میں لگا رہے نا اس کے پیچھے چل کر عورت خوار ہوتی ہے ۔ جو اپنی حجامت بنوا کر آئینہ  دیکھے نیا کپڑا پہن کر لڑکیوں والی گلی سے گزرے ، کلائی کی گھڑی بار بار دیکھے ، جوتے سے مٹی جھاڑے ، رومال سے منہ پونچھے ، حقہ کھینچے تو منہ داب داب کر دھواں چھوڑے ، ری ایسے مرد کو کمی رہی ہے کبھی عورتوں کی ؟ کیوں حرام موت مرنے لگی ہے ۔
اشفاق احمد حیرت کدہ صفحہ 10

سلامتی

مجھے معلوم ہو چکا ہے کہ اسلام کا مطلب سلامتی ہے ۔  جو شخص اسلام قبول کر لیتا ہے وہ سلامتی میں داخل ہو جاتا ہے ۔ اور جو شخص سلامتی میں داخل  ہو جاتا ہے وہ سلامتی ہی عطا کرتا ہے ۔ اس کے مخالف عمل نہیں کرتا۔ جس طرح ایک معطر آدمی اپنے گرد و پیش کو عطربیز کر دیتا ہے ۔ اسی طرح ایک مسلمان اپنے گرد و پیش کو خیر اور سلامتی سے لبریز کر دیتا ہے ۔ اگر کسی وجہ سے مجھ سے اپنے ماحول کو اور اپنے گرد و پیش کو سلامتی اور خیر عطا نہیں ہو رہی تو مجھے رک کر سوچنا پڑے گا کہ میں اسلام کے اندر ٹھیک سے داخل ہوں بھی یا نہیں ۔۔۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 458

ذکر اذکار

ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ تم کو سوائے اللہ کے ذکر کے اطمینانِ قلب نصیب ہی نہیں ہو سکتا ۔
جب تک خدا کا ذکر نہیں کرو گے( جلی یا خفی ) اس وقت تک اطمینانِ قلب کی دولت نصیب نہیں ہوگی ۔  لوگ کہتے ہیں اور عام کہتے ہیں کہ خالی ذکر کوئی معنی نہیں رکھتا ، اس کے ساتھ عمل کا ہونا ضروری ہے  کیونکہ عمل کے بغیر کوئی راست قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ان کا خیال ہے کہ محض ہو حق سے کچھ نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ ایک ہی بات کو بار بار دہرانے سے آپ کے مقصد کا حصول نہیں ہوتا ۔  بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ اگر املی کا نام لینے سے منہ میں پانی آجاتا ہے تو خدا کا نام لینے سے وجود پر کوئی اثر بھی مرتب نہیں ہوگا ؟  ایک نامی گرامی بادشاہ کی چہیتی بیٹی بیمار پڑی ۔ اس عہد کے بڑے اطباء اور صادق حکیموں سے اس کا علاج کروایا لیکن مرض بگڑتا گیا ۔  آخر میں وہاں کے سیانے کو کو بلا کر مریضہ کو دکھایا گیا اس نے مریضہ کے سرہانے بیٹھ کر لا اِلٰہ  کا ورد شروع کر دیا ۔
طبیب اور حکیم اس کے اس فعل کو دیکھ کر ہنسنے لگے اور کہا کہ محض الفاظ جسم پر کس طرح اثر انداز ہونگے ! تعجب !۔
اس صوفی نے چلا کر کہا "خاموش ! تم سب لوگ گدھے ہواور احمق…

بت شکن

فرمایا کہ شبیہ تیار نہ کرنا ۔ صنم نہ بنانا ۔ بت نہ بنانا ۔ کیونکہ اس کا بت بنایا ہی نہیں جا سکتا ۔ وہ شکل و صورت سے مبرا ہے ۔  اس لیے اس کا بت نہ بنانا ، نہ ہی اس کی پوجا کرنا ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے یہ سمجھ لیا کہ بتوں کو توڑنا اور بت خانوں کو تباہ  کرنا ہماری ڈیوٹی ہے ۔  چونکہ وہ شکل و صورت سے مبرا ہے ۔ اس لیے جہاں بھی اس کی شکل و صورت بنائی گئی ہے ۔ اس کو ڈھا دینا چاہیے ، تباہ کر دینا چاہیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ذرا ان کی عقل ملاحظہ فرمائیں ، فرمایا یہ تھا کہ ظاہر پرستی نہ کرنا ، ظاہر کو نہ اپنانا ، اپنے اندر اترنا ، اپنے وجود کی تلاوت کرنا لیکن ہم نے بتوں کو توڑنا شروع کر دیا ہے ۔ کچھ لوگ پتھر کو پوجتے ہیں ، کچھ پتھر کو توڑتے ہیں ۔ دونوں ہی پتھر سے وابستہ ہیں ۔ دونوں ہی پتھر کے گرویدہ ہیں ۔ دونوں ہی اس سے بندھے ہوئے ہیں ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 441

غلط فہمی

ایک شام ہم لندن میں فیض صاحب کے گرد جمع تھے اور ان کی شاعری سن رہے تھے ۔  انہوں نے ایک نئی نظم لکھی تھی اور اسے ہم بار بار سن رہے تھے ۔  وہاں ایک بہت خوبصورت ، پیاری سی لڑکی تھی ۔ اس شعر و سخن کے بعد " سیلف " کی باتیں ہونے لگیں ۔ یعنی  " انا " کی بات چل نکلی اور اس کے اوپر تمام  حاضرین نے  بار بار اقرار و اظہاراورتبادلہ خیال کیا ۔ اس نوجوان لڑکی نے کہا فیض صاحب مجھ میں بھی بڑا تکبر ہے  اور میں بھی بہت انا کی ماری ہوئی ہوں ۔  کیونکہ جب صبح میں شیشہ دیکھتی ہوں تو میں سمجھتی ہوں کہ مجھ سے زیادہ خوبصورت اس دنیا میں اور کوئی نہیں ۔  اللہ تعالیٰ نے فیض صاحب کو بڑی " سینس آف ہیومر " دی تھی ۔ کہنے لگے بیبی ! یہ تکبر اور انا ہر گز نہیں ، یہ غلط فہمی ہے ۔ ( انہوں نے یہ بات   بالکل اپنے مخصوص انداز میں لبھا اور لٹا کے کی ) وہ بیچاری قہقہے لگا کے ہنسی  ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 2  تکبر اور جمہوریت کا بڑھاپا  صفحہ 104

پانسہ

زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے ، جب آپ اپنا سارا دماغ ساری طاقت ، ساری ترکیبیں اور ساری صلاحیتیں  صرف کر چکے ہوتے ہیں اور پانسہ پھینک چکے ہوتے ہیں ۔  اس وقت سب کچھ خدا کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور آپ کچھ نہیں کر سکتے ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 434

انسان

یقیناً انسان کو اللہ پر ایمان رکھنا چاہیے ، اس ایمان سے اس کے بہت سے مشکل مسائل کا حل خودبخود نکل آتا ہے، اور وہ قوی تر ہوتا جاتا ہے ۔  لیکن انسان کو اللہ پر یقین رکھنے کے ساتھ ساتھ انسان پر بھی یقین رکھنا چاہیے  ۔ اپنے آپ پر بھی ایمان رکھنا چاہیے  ۔ کیونکہ اگر ہم انسان پر ایمان نہیں رکھیں گے تو اللہ پر بھی ہمارا ایمان مضبوط نہیں ہوگا ۔  انسان خدا کی بہترین مخلوق ہے ۔ انسان کی کمزوریاں اور مجبوریاں بہت ہیں ۔  اس طرح اس کی برتریاں اور اعلیٰ ترینیاں  بھی سب سے زیادہ ہیں ۔ کیا  ہم نے ایٹم بم پھاڑ کر نہیں دکھا دیا  ۔  اگر وہ یہ سب کچھ کر سکتا ہے تو جہالت ، تعصب اور پیکار کا قلع قمع کیوں نہیں کر سکتا ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 434

طالبِ خدا

انسان کو جس چیز میں کمال  ہوتا ہے  اس پر مرتا ہے ۔  چنانچہ دھنتر دید کو سانپ پکڑنے میں کمال  تھا  ، اس کو سانپ نے کاٹا اور مر گیا ۔  ارسطو سل کی بیماری میں مرا ۔ افلاطون فالج میں ۔ لقمان سرسام میں اور جالینوس دستوں کے مرض  میں حالانکہ  انہیں بیماریوں کے علاج میں کمال رکھتے تھے ۔  اس طرح جس کو جس سے محبت ہوتی ہے اسی کی خیال میں جان دیتا ہے ۔ قارون مال کی محبت میں مرا ، مجنوں لیلیٰ کی محبت میں ۔  اسی طرح طالبِ خدا کو خدا کی طلبی کی بیماری ہے وہ اسی میں فنا ہو جاتا ہے ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 409

مولوی

انجمن اسلامیہ کا سالانہ  جلسہ جامع مسجد میں ہوتا تھا اس کے لیے دور دراز سے اعلیٰ درجے کے مولوی بلائے جاتے تھے میرے ابا جی اور چاچا ولی محمد اس انجمن کے کرتا دھرتا تھے ۔ وہ ہمارے قصبے کے لوگوں کی فرمائش پر ایسے مولوی  بلانے پر مجبور تھے  جو گلے کے سریلے ، کھانے کے چسکورے ،  بات کے ہٹیلے اور دلیل کے کٹیلے ہوں ۔ دوسرے مسلک کے چھکے چھڑادیں  اور اپنے عقیدے پر آنچ نہ آنے دیں ۔  منظوم لطیفے اور ظریفانہ کہانیاں آسانی سے سنا سکیں ۔  روتوں کو ہنسادیں اور ہنستوں کو رلا دیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور اپنی ہاؤ ہو سے جلسے مین مجلس کا سا رنگ پیدا کر دیں ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ  164

منگتے

ایک روز بیٹھے بیٹھے میرے ذہن میں خیال آیا کہ میں گدائی کر  کے کچھ رسد لے کر  ڈیرے پر جاؤنگا ۔ اور لنگر  میں شامل کرونگا  تا کہ پرانی رسم کا اعادہ ہو ۔ گھر کے پھاٹک سے باہر نکل کر جب میں نے ادہر ادہر دیکھا تو میرا حوصلہ نہ پڑا ۔ میں اتنا بڑا آدمی ایک معزز اور مشہور ادیب  کس طرح کسی کے گھر کی  بیل بجا کر یہ کہ سکتا ہوں کہ میں مانگنے آیا ہوں ۔ میں چپ چاپ  آ کر واپس اپنی کرسی پر بیٹھ کر اخبار پڑھنے لگا ۔  لیکن  چونکہ یہ خیال میرے ذہن میں جا گزیں ہو چکا تھا اس لیے میں پھر اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنی بیوی کے پاس جا کر کہا " مجھے اللہ کے نام پر کچھ خیرات دو گی " ۔ وہ میری بات نہ سمجھی اور حیرانی سے میرا چہرہ تکنے لگی ۔ میں نے کہا مجھے اللہ کے نام پر کچھ آٹا خیرات دو ۔ اس نے تعجب سے پوچھا تو میں نے کہا کہ بابا جی کے لنگر میں ڈالنا ہے ۔ کہنے لگی ٹھرئیےمیں کوئی مضبوط سا شاپر تلاش کرتی ہوں ۔ میں نے کہا شاپر نہیں میری جھولی میں ڈال دو ۔ کیونکہ ایسے ہی مانگا جاتا ہے ۔  وہ پھر نہیں سمجھی ۔ جب میں نے ضد کی تو وہ آٹے کا بڑا " پیالہ " بھر لائی ۔ میں نے اپنے کرتے کی جھولی اس کے آگے ک…

علم اور عمل

عمل، علم کے لیے ایندھن کا کام دیتا ہے ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ علم کا الاؤ روشن رہے تو اس میں عمل کا تیل ڈالتے رہیں ۔ ایسا نہ ہوا تو اس کی روشنی ماند پڑ جائےگی ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3 روح کی سرگوشی صفحہ 308

روٹی کپڑا اور مکان

عام انسانی زندگی کافی بے مقصد ہوتی ہے ۔  ہر کسی کو تو کوئی لگن ، یا کوئی دھن ، یا کسی قسم کا جنون  یا کوئی ایسا شوق نہیں ہوتا  جس کے لیے  وہ اپنی ساری زندگی وقف کر دے ۔  وہ لوگ تو خال خال ہی ہوتے ہیں ۔  لیکن باقی کے لوگ صرف روٹی کپڑا اور مکان  آسائش اور خوش وقتی کے طلبگار ہوتے ہیں ۔  ان کے بھانویں کوئی مرے کوئی جیے ان کا پیالہ پر رہنا چاہیے ۔  ان کا وقت اچھا گزرنا چاہیے ۔  اور ان کی آسائشوں میں اضافہ ہوتے رہنا چاہیے 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 198

تصورِ خدا

عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ انسان خدا کے تصور کو شعوری طور پرٹھیک طرح سے سمجھ لے ایسا نہ ہوا تو  کوئی اور شے خدا بن کر اپنی پوجا کروانے لگے گی ۔ اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 543

اظہارِ علم

لیکن جب کسی آدمی سے علم کے اظہار کو کہا جاتا ہے اور سننے والے نیم دائرے کی شکل میں اس کے سامنے بیٹھ کر علم کی بھیک  مانگنے کو جھولیاں پھیلاتے ہیں ،  تو پھر علم والے سے رہا نہیں جاتا ۔ وہ اپنی جان کی بازی لگا کر اظہار کرتا ہے اور پھر کرتا ہی چلا جاتا ہے ۔  کئی مرتبہ یوں بھی ہوا کہ سننے والے اٹھ کر چلے گئے ،   اپنی بیزاری کا اظہار بھی کر گئے لیکن کہنے والا کہتا چلا گیا ۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ  شراب کا نشہ چھوٹ جاتا ہے ، ہیروئن کی لت ختم ہو جاتی ہے ۔  چور چوری چھوڑ دیتا ہے ۔ لیکن سنانے والا سنانے سے نہیں رک سکتا ۔  منبر پر ہو ، مشاعرے میں ہو ، اسمبلی میں گھس جائے سلامتی کونسل میں پہنچ جائے  بولنے والا بولے گا اور دبا کے بولے گا ۔  اپنی دانش کا اظہار کرنے والا نہ کبھی تھکتا ہے نہ ہانپتا ہے ، نہ اس کو اونگھ آتی ہے  ، نہ اس کی آواز گرتی ہے  ، نہ تھکاوٹ کے آثار نظر آتے ہیں ۔  بس کہے چلا جاتا ہے ، بتائے جاتا ہے ، بولے جاتا ہے ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 20

ادلے کا بدلہ

ایک شخص جو اپنے بوڑھے باپ سے بڑا تنگ تھا  ، ایک دن اسے کمر پر لاد کر اپنے گھر سے باہر نکلتا ہے اور چلتے چلتے وہ دونوں دریا پر پہنچ جاتے ہیں ۔  وہ شخص پانی میں اترتا ہے اور گہرے پانی میں جانے لگتا ہے ۔  اور ایک مقام پر اس کا  بوڑھا باپ اپنے بیٹے سے پوچھتا ہے کہ   " بیٹا کیا کر رہے ہو " ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میں تیری روز روز کی بڑ بڑ سے تنگ آ کر تجھے دریا برد کرنے آیا ہوں ۔  (یا ہو سکتا ہے اس نے اپنے باپ کو کوئی اور جواب دیا ہو ) اور سوچ رہا ہوں کہ تجھے ذرا گہرے پانی میں پھینکوں  تا کہ تو جلدی ڈوب جائے  تو اس کا بوڑھا باپ جواب دیتا ہے  " بیٹا جس جگہ تو مجھے پھینک رہا ہے یہاں نہ پھینکنا بلکہ  ذرا اور آگے اور گہرے پانی میں پھینکنا " ۔ بیٹا پوچھتا ہے کہ " کیوں ، یہاں کیوں نہ پھینکوں "۔ اس کا باپ کہتا ہے کہ " اس جگہ میں نے تیرے دادا اور اپنے باپ کو پھینکا تھا " ۔ یہ سن کر اس کا بیٹا اپنے باپ کو واپس گھر لے آتا ہے کیونکہ وہ سوچتا ہے کہ جب وہ بوڑھا ہوگا تو اس کی منزل اس سے بھی گہرا پانی ہوگا ، جہاں وہ اپنے باپ کو پھینکنے والا تھا ۔ ادلے کا بدلہ تو ہونا …

رکاوٹ

مایوسی کو اپنے وجود میں کوئی مقام نہیں دینا چاہئیے ۔ ہم یقیناً  کامیاب ہو سکتے ہیں اور حالات پر فتح حاصل کر سکتے ہیں ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ہماری پوشیدہ قوت ہماری ظاہری کمزوری سے کہیں زیادہ ہے ۔ صرف ہمیں اس کا احساس نہیں ہے ۔ جلدی سے متاثر ہو جانا زندگی کی ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے ۔ ایک آزاد اور کھلا ذہن نہ تو اخباری سرخیوں سے متاثر ہوتا ہے ۔ اور نہ ہی ان سے مجروح ہوتا ہے ۔ ایک ظالم اور خوفناک چہرہ ، منصوبے میں اچانک تبدیلی   ، کوئی نقصان یا دھمکی دینے والا معاشرہ یہ سب بند ذہنوں پر کار گر ہوتے ہیں ۔  عمل میں رکنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انسان عوامی اعلان کے فریب اور واہموں کو حقیقت سمجھ لیتا ہے ۔ سچ وہ ہے جو "  ہے " وہ نہیں جو کروڑوں عوام  سوچتے ہیں کہ یہ سچ ہے ۔  ۔ ۔ ۔ ۔  الفاظ  اور لیبل اور سلوگن اڑچنیں ضرور نظر آتے ہیں  لیکن وہ بہت ہی کمزور ہوتے ہیں ۔  اپنی ذات سے لیبلوں کو کھرچ کر پرے پھینکو پھر تم آزاد ہو ۔ 
اشفاق احمد  بابا صاحبا صفحہ 527 

طالبِ خدا

حضرت موسیٰ علیہ السلام  نے جناب باری میں عرض کیا کہ تیری بارگاہ میں میرا کونسا فعل پسندیدہ ہے تا کہ اسے میں  زیادہ کروں اور بار بار کروں ۔  حکم ہوا کہ یہ فعل ہمیں پسند آیا ہے کہ  زمانہ طفلی میں جب تمہاری ماں تم کو مارا کرتی تھی تو تم مار کھا کر بھی اسی کی طرف دوڑتے تھے اور اسی کی جھولی میں گھستے تھے ۔ پس طالبِ خدا کو بھی یہی لازم ہے کہ گو کیسی بھی سختی ہو ، کیسی بھی ذلت و خواری پیش آئے ، ہر حال میں خدا کی طرف متوجہ رہے اور اس کے فضل کا طلبگار رہے ۔  نہ کوئی ساجد نہ مسجود ، نہ عابد نہ معبود ۔  نہ آدم نہ ابلیس۔  صرف ایک ذات قدیم  ، صفات رنگا رنگ میں جلوہ گر ہے ۔  نہ اس کی ابتدا نہ انتہا ، نہ اس کو کسی نے دیکھا نہ سمجھا ۔ نہ فہم و  قیاس میں آئے ، نہ وہم و گمان میں سمائے ۔ جیسا تھا ویسا ہی ہے ۔ اور جیسا ہے ویسا ہی رہیگا ۔ نہ گھٹے نہ بڑہے نہ اترے نہ چڑہے ۔ وہ ایک ہے ۔  لیکن ایک بھی نہیں ، کیونکہ اس کو موجودات سے الگ سمجھنا نادانی اور حد رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دنیا میں طرح طرح کے کاروبار اور رنگا رنگ اشعال موجود ہیں ۔ ایسے ہی خدا جوئی اور خدا شناسی بھی ایک دھندہ ہے جس کا کوئی سر پیر نہیں ۔

اشفا…

خیال

ایک آدمی اپنی خوراک پر توجہ دیتا ہے ، کپڑوں پر دیتا ہے  ۔ میک اپ پر دیتا ہے ۔ لیکن اپنے خیالات کے بارے میں کبھی نہیں سوچتا ۔ نہ ہی ان پر کوئی توجہ دیتا ہے ۔ اور یہ خیالات ہی ہیں جو اچھے کپڑے پہننے اور اچھا کھانا کھانے کے باوصف ہم کو بیچین رکھتے ہیں ۔ ہم کو بیزار رکھتے ہیں ۔ ہمیں کنٹرول کرتے ہیں ۔ انہیں کے مطابق ہم اپنا رویہ طے کرتے ہیں ۔ 

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 567

دیوار

ایک بار کسی نے شیخ اکبر سے درخواست کی کہ  حضور کچھ ایسا کر دیجیے کہ قلب میں گناہ کا خیال ہی نہ آئے ۔   تو آپ نے فرمایا کہ  دیوار ہونا کس کام کا ۔  یہ بیچاری دیوار کھڑی ہے ، برسوں ہو گئے  ، چوری یہ نہیں کرتی ، زنا اس نے نہیں کیا ،  حق اس نے کسی کا مارا نہیں مگر ثواب اس کو کوئی نہیں مل سکا ۔ ویسے کی ویسی ہی کھڑی ہے ۔  انسان کا کمال تو یہی ہے کہ قلب میں گناہ کا تقاضا پیدا ہو  اور گناہ نہ کرے ۔ ان صاحب نے عرض کیا کہ  بعض اوقات تو رہا نہیں جاتا اور گناہ ہو ہی جاتا ہے ۔ فرمایا خیر اگر گناہ ہو ہی جائے  تو توبہ کر لے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 613

موٹر اور بھاگتی ہوئی پل

میں ایک مرتبہ لاہور سے قصور جا رہا تھا تو  ایک پلی پر لڑکا بیٹھا ہوا تھا اور اس پلی کو  ڈنڈے سے بجا رہا تھا اور آسمان کو دیکھنے میں محو تھا ۔  مجھے بحیثیت استاد کے اس پر بڑا غصہ آیا کہ دیکھو وقت ضائع کر رہا ہے اس کو تو پڑھنا چاہیے  خیر میں وہاں سے گذر گیا ۔ تھوڑی دور آگے جانے کے بعد مجھے یاد آیا کہ جو فائلیں اور کاغذات میرے ہمراہ ہونے چاہیے تھے وہ نہیں ہیں  لہٰذا مجھے لوٹ کر دفتر جانا پڑا ۔  میں واپس لوٹا  تو لڑکا پھر ڈنڈا بجا رہا تھا ۔ مجھے اس پر اور غصہ آیا ۔  جب میں کاغذات لے کر واپس آرہا تھا تب بھی اس لڑکے کی کیفیت ویسی ہی تھی ۔  میں نے وہاں گاڑی روک دی اور کہا  یار دیکھو تم یہاں بیٹھے وقت ضائع کر رہے ہو  ، تمہاری عمر کتنی ہے ۔  اس نے کہا تیرہ یا چودہ سال ہے ۔ میں نے کہا تمہیں پڑھنا چاہیے ۔ وہ کہنے لگا جی میں پڑھنا نہیں جانتا ۔  تب میں نے کہا تم یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہو ۔ میرے خیال میں فضول میں اپنا اور قوم کا وقت ضائع کر رہے ہو ، تمہیں شرم آنی چاہیے ۔ وہ کہنے لگا جی میں تو یہاں بیٹھا بڑا کام کر رہا ہوں  میں نے کہا آپ کیا کام کر رہے ہہیں ۔ کہنے لگا جی میں چڑی کو دیکھ رہا ہوں یہ و…

نانبائی

بغداد میں ایک نانبائی تھا ،  وہ بہت اچھے نان کلچے لگاتا تھا اور دور دور سے دنیا اس کے گرم گرم نان خریدنے کے لیے آتی تھی ۔ کچھ لوگ بعض اوقات  اسے کھوٹا سکہ دے کر چلے جاتے  جیسے یہاں ہمارے ہاں بھی ہوتے ہیں ۔ وہ نانبائی کھوٹا سکہ لینے کے بعد اسے جانچنے اور آنچنے کے بعد  اسے اپنے " گلے" ( پیسوں والی صندوقچی ) میں ڈال لیتا تھا ۔ کبھی واپس نہیں کرتا تھا  اور کسی کو آواز دے کر نہیں کہتا تھا کہ تم نے مجھے کھوٹا سکہ دیا ہے ۔ بے ایمان آدمی ہو  وغیرہ وغیرہ   اس بلکہ محبت سے وہ سکہ بھی رکھ لیتا تھا ۔ جب اس نانبائی  کا آخری وقت آیا تو  اس نے پکار کر اللہ سے کہا ( دیکھئیے  یہ بھی  دعا کا ایک انداز ہے )  "اے اللہ تو اچھی طرح سے جانتا ہے  کہ میں تیرے بندوں سے کھوٹے سکے لے کر انہیں اعلیٰ درجے کے خوشبو دار گرم گرم صحت مند نان دیتا رہا اور وہ لے کر جاتے رہے ۔  آج میں تیرے پاس جھوٹی اور کھوٹی عبادت لے کر آرہا ہوں ، وہ اس   طرح سے نہیں جیسی تو چاہتا ہے ۔ میری تجھ سے یہ درخواست ہے کہ جس طرح سے میں نے تیری مخلوق کو معاف کیا تو بھی مجھے معاف کر دے  ۔ میرے پاس اصل  عبادت نہیں ہے "۔
 بزرگ …

صحابہ کرام

حضرت شیخ اکبر نے  فرمایا صحابہ  کے کمال عقل کی ایک یہ بات ملاحظے کے قابل ہے  کہ انہوں نے مختلف مقامات  پر جتنی بھی مسجدیں  بنائیں  سب کا قبلہ درست ہے ۔  حالانکہ اس وقت نہ ان کے پاس قطب نما تھا ،  نہ جغرافیہ ، نہ وہ مہندس تھے  ، اور نہ ہی ان کے پاس کوئی نقشہ موجود ہوتا تھا ۔  بڑے بڑے  عقلدار، ماہر انجینیئر جو بعد کو پیدا ہوئے  جن کا مشغلہ اور کوشش یہی  ہے کہ اسلام میں کوئی نقص  پیدا کریں اور اس کی کوئی خامی ڈھونڈہیں  وہ بھی ان میں کوئی عیب تلاش نہ کر پائے ۔  اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 608