منگتے

ایک روز بیٹھے بیٹھے میرے ذہن میں خیال آیا کہ میں گدائی کر  کے کچھ رسد لے کر  ڈیرے پر جاؤنگا ۔ اور لنگر  میں شامل کرونگا  تا کہ پرانی رسم کا اعادہ ہو ۔ گھر کے پھاٹک سے باہر نکل کر جب میں نے ادہر ادہر دیکھا تو میرا حوصلہ نہ پڑا ۔ میں اتنا بڑا آدمی ایک معزز اور مشہور ادیب  کس طرح کسی کے گھر کی  بیل بجا کر یہ کہ سکتا ہوں کہ میں مانگنے آیا ہوں ۔ میں چپ چاپ  آ کر واپس اپنی کرسی پر بیٹھ کر اخبار پڑھنے لگا ۔  لیکن  چونکہ یہ خیال میرے ذہن میں جا گزیں ہو چکا تھا اس لیے میں پھر اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنی بیوی کے پاس جا کر کہا " مجھے اللہ کے نام پر کچھ خیرات دو گی " ۔ وہ میری بات نہ سمجھی اور حیرانی سے میرا چہرہ تکنے لگی ۔ میں نے کہا مجھے اللہ کے نام پر کچھ آٹا خیرات دو ۔ اس نے تعجب سے پوچھا تو میں نے کہا کہ بابا جی کے لنگر میں ڈالنا ہے ۔ کہنے لگی ٹھرئیےمیں کوئی مضبوط سا شاپر تلاش کرتی ہوں ۔ میں نے کہا شاپر نہیں میری جھولی میں ڈال دو ۔ کیونکہ ایسے ہی مانگا جاتا ہے ۔  وہ پھر نہیں سمجھی ۔ جب میں نے ضد کی تو وہ آٹے کا بڑا " پیالہ " بھر لائی ۔ میں نے اپنے کرتے کی جھولی اس کے آگے کر دی ۔اس نے آٹا میری جھولی میں ڈالتے ہوئے سر جھکا لیا اور آبدیدہ ہو گئی ۔ پھر وہ مجھ سے نظریں ملائے بغیر باورچی خانے چلی گئی ۔ وہاں سے دو بڑے بینگن اور ایک چھوٹا سا کدو لے آئی اور اسے آٹے پر رکھ دیا ۔  ہم دونوں کے شرمندہ شرمندہ اور غمناک چہروں کو ہمارا چھوٹا بیٹا دیکھ رہا تھا  اس کے ہاتھوں میں اس کا محبوب لیمن ڈراپ تھا اور وہ اس سے چپٹا ہوا کاغذ اتار رہا تھا  جب اس نے باپ کو جھولی پھیلائے دیکھا تو اس نے اپنا لیمن ڈراپ میری جھولی میں ڈال دیا۔ ہم دونوں میاں بیوی کی ایک ساتھ چیخ نکل گئی ۔ جب کوئی گدائی کرتا ہے تو بھکاری اور داتا کے درمیان ایک نہ سنائی دینے والی چیخ ضرور ابھرتی ہے  ۔  میں نے اپنی بیوی سے کہا موٹر کا دروازہ کھول  کر مجھے اس میں بٹھا دو ۔ میں کھلی جھولی میں آٹا ڈالے آہستہ آہستہ کار چلاتا ڈیرے پر پہنچ گیا ۔ بابا جی کھڑے تھے ، مجھے دیکھ کر زور کا نعرہ لگایا ۔ رحمتاں برکتاں والے آگئے ۔ نور والے آگئے ۔  منگتے آگئے ۔ منگتے آ گئے ۔ 

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 340