بت شکن

فرمایا کہ شبیہ تیار نہ کرنا ۔ صنم نہ بنانا ۔ بت نہ بنانا ۔ کیونکہ اس کا بت بنایا ہی نہیں جا سکتا ۔ وہ شکل و صورت سے مبرا ہے ۔  اس لیے اس کا بت نہ بنانا ، نہ ہی اس کی پوجا کرنا ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے یہ سمجھ لیا کہ بتوں کو توڑنا اور بت خانوں کو تباہ  کرنا ہماری ڈیوٹی ہے ۔  چونکہ وہ شکل و صورت سے مبرا ہے ۔ اس لیے جہاں بھی اس کی شکل و صورت بنائی گئی ہے ۔ اس کو ڈھا دینا چاہیے ، تباہ کر دینا چاہیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ذرا ان کی عقل ملاحظہ فرمائیں ، فرمایا یہ تھا کہ ظاہر پرستی نہ کرنا ، ظاہر کو نہ اپنانا ، اپنے اندر اترنا ، اپنے وجود کی تلاوت کرنا لیکن ہم نے بتوں کو توڑنا شروع کر دیا ہے ۔ کچھ لوگ پتھر کو پوجتے ہیں ، کچھ پتھر کو توڑتے ہیں ۔ دونوں ہی پتھر سے وابستہ ہیں ۔ دونوں ہی پتھر کے گرویدہ ہیں ۔ دونوں ہی اس سے بندھے ہوئے ہیں ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 441