صبر و سکون

کسان ہل جوتتا ہے ۔ کھاد ملاتا ہے ۔ مٹی نرم کرتا ہے ، بیج ڈالتا ہے ، پانی دیتا ہے اور پھر پودے کے انتظار میں کھڑا ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھولوں کو پودوں سے زبردستی کھینچ کر نہیں نکالا جا سکتا ۔ اس کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ خاموشی کے ساتھ  اورجرئت کے ساتھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور محبت کے ساتھ ! ! ۔
اللہ کی محبت کا بیج بھی ایسے ہی بویا جاتا ہے اور پھر اسی طرح روحانی مراد کا بھی انتظار کیا جاتا ہے ۔ خاموشی سے محبت سے ،  جرئت سے ! جو کوئی بھی اس میں بے چینی اور بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے وہ مراد حاصل نہیں کرتا۔ بے صبری بار آوری کے لیے مناسب کھاد نہیں ۔ 
ابدی پھولوں کے حصول کے لیے ابدی انتظار کی ضرورت ہے اور جو ابدی انتظار کا تہیہ کر لیتا  اس کے لیے فٹ سے بھی دروازہ کھل جایا کرتا ہے ۔ ہمارے اندر ، اندر کی طاقت موجود ہے اور کافی مقدار میں موجود ہے ۔ لیکن ہم بے صبری کے ساتھ اس کو گنوا دیتے ہیں ۔
گدلے جوہڑ کے اندر اپنے چھکڑوں کو تیزے سے ہانکتے ہوئے گذارنا اور بھی گدلاہٹ پیدا کرتا ہے ۔  آرام سے چلو گے تو سب گار بیٹھ جائے گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ہم پر لازم ہے کہ ہم محض شاہد بنیں ۔ دیکھنے والے بنیں ۔ ذہن خودبخود پاکیزہ ہو جائے گا ۔ ہمیں ذہن کو پاکیزہ بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے ۔ ساری گڑبڑ اس ذہن کو پاکیزہ بنانے سے پیدا ہوتی ہے ۔ آرام سے کنارے پر بیٹھ کر نظارہ کریں اور پھر دیکھیں کیا نظارہ ابھرتا ہے ۔ 

ااشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 468