نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

غفور الرحیم

میرے تایا بیمار تھے اور کوما میں تھے ۔ کبھی وہ کومے ، سے باہر آجاتے اور کبھی ان پر پھر وہی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔  اور ہم سب بہن بھائی مونڈھے پہ بیٹھے ان کو اٹینڈ کرتے تھے ۔میں اس وقت سیکنڈ ایئر میں پڑھتا تھا ۔ ایک دن انہیں اٹینڈ کرنے کی ڈیوٹی میری تھی ۔ 
وہ مجھ سے کہنے لگے کہ  " یہ جو اللہ ہے کیا وہ انسانوں کے گناہ معاف کر سکتا ہے "۔
میں نے کہا کہ جی اللہ تو کچھ بھی کر سکتا ہے اور گناہوں کو معاف کرنے میں تو وہ بڑا رحیم ہے اور غفورالرحیم ہے۔ وہ تو کہتا ہے کہ انسان اس سے گناہوں کی معافی مانگے ۔ تایا کہنے لگے  یار یہ تو بڑی اچھی بات ہے ۔ جب انہوں نے یہ کہا تو ان کے چہرے پہ کچھ بشاشت سی پیدا ہوئی اور میں نے ان کی خوشنودی  کے لیے مزید کہا کہ تایا آپ نے کونسے ایسے گناہ کیے ہیں  کہ آپ اس قدر پریشانی کے عالم میں ہیں ۔ آپ تو ہمارے ساتھ بڑے چنگے رہے ہیں یہ سن کر انہوں نے کہا کہ 
" shut up , its nothing between you and me , its between me and my ALLAH ."
شٹ اپ ،  " تمہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چائیے یہ میرا اور میرے اللہ کا معاملہ ہے "۔ 

اشفاق احمد زاویہ 3 ڈیفینسو ویپن صفحہ 260

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…