نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

غفور الرحیم

میرے تایا بیمار تھے اور کوما میں تھے ۔ کبھی وہ کومے ، سے باہر آجاتے اور کبھی ان پر پھر وہی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔  اور ہم سب بہن بھائی مونڈھے پہ بیٹھے ان کو اٹینڈ کرتے تھے ۔میں اس وقت سیکنڈ ایئر میں پڑھتا تھا ۔ ایک دن انہیں اٹینڈ کرنے کی ڈیوٹی میری تھی ۔ 
وہ مجھ سے کہنے لگے کہ  " یہ جو اللہ ہے کیا وہ انسانوں کے گناہ معاف کر سکتا ہے "۔
میں نے کہا کہ جی اللہ تو کچھ بھی کر سکتا ہے اور گناہوں کو معاف کرنے میں تو وہ بڑا رحیم ہے اور غفورالرحیم ہے۔ وہ تو کہتا ہے کہ انسان اس سے گناہوں کی معافی مانگے ۔ تایا کہنے لگے  یار یہ تو بڑی اچھی بات ہے ۔ جب انہوں نے یہ کہا تو ان کے چہرے پہ کچھ بشاشت سی پیدا ہوئی اور میں نے ان کی خوشنودی  کے لیے مزید کہا کہ تایا آپ نے کونسے ایسے گناہ کیے ہیں  کہ آپ اس قدر پریشانی کے عالم میں ہیں ۔ آپ تو ہمارے ساتھ بڑے چنگے رہے ہیں یہ سن کر انہوں نے کہا کہ 
" shut up , its nothing between you and me , its between me and my ALLAH ."
شٹ اپ ،  " تمہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چائیے یہ میرا اور میرے اللہ کا معاملہ ہے "۔ 

اشفاق احمد زاویہ 3 ڈیفینسو ویپن صفحہ 260

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15