ذکر اذکار

ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ تم کو سوائے اللہ کے ذکر کے اطمینانِ قلب نصیب ہی نہیں ہو سکتا ۔
جب تک خدا کا ذکر نہیں کرو گے( جلی یا خفی ) اس وقت تک اطمینانِ قلب کی دولت نصیب نہیں ہوگی ۔ 
لوگ کہتے ہیں اور عام کہتے ہیں کہ خالی ذکر کوئی معنی نہیں رکھتا ، اس کے ساتھ عمل کا ہونا ضروری ہے  کیونکہ عمل کے بغیر کوئی راست قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ان کا خیال ہے کہ محض ہو حق سے کچھ نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ ایک ہی بات کو بار بار دہرانے سے آپ کے مقصد کا حصول نہیں ہوتا ۔ 
بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ اگر املی کا نام لینے سے منہ میں پانی آجاتا ہے تو خدا کا نام لینے سے وجود پر کوئی اثر بھی مرتب نہیں ہوگا ؟ 
ایک نامی گرامی بادشاہ کی چہیتی بیٹی بیمار پڑی ۔ اس عہد کے بڑے اطباء اور صادق حکیموں سے اس کا علاج کروایا لیکن مرض بگڑتا گیا ۔ 
آخر میں وہاں کے سیانے کو کو بلا کر مریضہ کو دکھایا گیا اس نے مریضہ کے سرہانے بیٹھ کر لا اِلٰہ  کا ورد شروع کر دیا ۔
طبیب اور حکیم اس کے اس فعل کو دیکھ کر ہنسنے لگے اور کہا کہ محض الفاظ جسم پر کس طرح اثر انداز ہونگے ! تعجب !۔
اس صوفی نے چلا کر کہا "خاموش ! تم سب لوگ گدھے ہواور احمقوں کی سی بات کرتے ہو ۔ اس کا علاج ذکر ہی سے ہوگا"۔
اپنے لیے گدھے اور احمق کے الفاظ سن کر ان کا چہرہ سرخ ہو گیا اور ان کے جسموں کے اندر خون کا فشار بڑہ گیا۔ اور انہوں نے صوفی کے خلاف مکے تان لیے ۔
صوفی نے کہا " اگر گدھے کے لفظ نے تم کو چراغ پا کر دیا ہے اور تم سب کا بلڈ پریشر ایک دم ہائی ہو گیا ہے اور تم نے میرے خلاف مکے تان لیے ۔  تو کیا ذکر اللہ اس بیمار بچی کے وجود پر کوئی اثر نہیں کرے گا "۔
ان سب حکیمون نے اپنا سر تسلیم خم کر دیا ۔
اگر عام زندگی میں دیکھا جائے تو اور دنیوی سطح پر اس حقیقت کا جائزہ لیا جائے تو یقین کی طرف قدم بڑہے گا ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 438