نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

موٹر اور بھاگتی ہوئی پل

میں ایک مرتبہ لاہور سے قصور جا رہا تھا تو  ایک پلی پر لڑکا بیٹھا ہوا تھا اور اس پلی کو  ڈنڈے سے بجا رہا تھا اور آسمان کو دیکھنے میں محو تھا ۔  مجھے بحیثیت استاد کے اس پر بڑا غصہ آیا کہ دیکھو وقت ضائع کر رہا ہے اس کو تو پڑھنا چاہیے 
خیر میں وہاں سے گذر گیا ۔ تھوڑی دور آگے جانے کے بعد مجھے یاد آیا کہ جو فائلیں اور کاغذات میرے ہمراہ ہونے چاہیے تھے وہ نہیں ہیں  لہٰذا مجھے لوٹ کر دفتر جانا پڑا ۔  میں واپس لوٹا  تو لڑکا پھر ڈنڈا بجا رہا تھا ۔ مجھے اس پر اور غصہ آیا ۔ 
جب میں کاغذات لے کر واپس آرہا تھا تب بھی اس لڑکے کی کیفیت ویسی ہی تھی ۔  میں نے وہاں گاڑی روک دی اور کہا 
یار دیکھو تم یہاں بیٹھے وقت ضائع کر رہے ہو  ، تمہاری عمر کتنی ہے ۔ 
اس نے کہا تیرہ یا چودہ سال ہے ۔ میں نے کہا تمہیں پڑھنا چاہیے ۔ وہ کہنے لگا جی میں پڑھنا نہیں جانتا ۔ 
تب میں نے کہا تم یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہو ۔ میرے خیال میں فضول میں اپنا اور قوم کا وقت ضائع کر رہے ہو ، تمہیں شرم آنی چاہیے ۔ وہ کہنے لگا جی میں تو یہاں بیٹھا بڑا کام کر رہا ہوں  میں نے کہا آپ کیا کام کر رہے ہہیں ۔
کہنے لگا جی میں چڑی کو دیکھ رہا ہوں یہ وہی چڑی ہے  جو پچھلے سے پچھلے سال ادہر آئی تھی اور اس نے یہیں گھونسلا ڈالا تھا  تب اس کے ساتھ کوئی اور چڑا تھا اب  کی بار شاید یہ کسی اور سے شادی کر کے آئی ہے ۔ 
میں نے کہا کہ تم کیسے پہچانتے ہو کہ یہ وہی چڑیا ہے ۔ وہ کہنے لگا کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے ۔  میں اس کو پہچانتا ہوں یہ مجھے پہچانتی ہے ۔ مجھے اس کی بات سن کر پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ میرے ملک میں ایک اورنی تھالوجسٹ بھی ہے ۔ 
اس کا گو کوئی گائیڈ نہیں ۔ یہ کسی یونیورسٹی سے یہ مضمون نہیں پڑھا کیونکہ ہماری کسی یونیورسٹی میں یہ سبجیکٹ نہیں پڑھایا جاتا ہے ۔ 
میں چونکہ شرمندہ ہو چکا تھا اور اس سے کہ چکا تھا تم بڑا وقت ضائع کر رہے ہو  اور فضول کام میں لگے ہو اور اب میں نے اپنے مؤقف سے نہ ہٹتے ہوئے اور شرمندگی ٹالتے ہوئے کہا  کہ یار تمہیں کوئی کام کرنا چاہیے ۔ میری طرف دیکھو میں کیسی اچھی گاڑی میں ہوں  اور میں اپنی ایک میٹنگ میں جا رہا ہوں ۔  لوگ مجھے اجلاسوں میں بلاتے ہیں اور میں تم سے بڑے درجے میں ہوں  اور یہ اس وجہ سے ہے کہ میں تعلیم یافتہ ہوں ۔ اور تم نے گویا تعلیم حاصل نہیں کی تم فضول لڑکے ہو ۔ وہ میری بات سن کر ہنس کر کہنے لگا  " صاحب جی بات یہ ہے کہ ہم تم دونوں ہی برابر ہیں  ۔ میں اس پلی پر بیٹھا بھاگتی ہوئی موٹریں دیکھ رہا ہوں  ۔ اور آپ موٹر میں بیٹھے پلیا کو بھاگتا دیکھ رہے ہیں ۔  آپ نے بھی کچھ زیادہ اکٹھا نہیں کیا "۔
 خواتین و حضرات !  کبھی کبھی اس لڑکے کی بات مجھے یاد آ جاتی ہے  مین نے اب حال ہی میں پچھلے سے پچھلے ہفتے یہ فیصلہ کیا کہ اتنی زیادہ خشک اور اتنی زیادہ سنجیدہ زندگی بسر کرنے کی نہ تو اجتماعی طور پر ضرورت ہے اور نہ انفرادی طور پر  ۔ بلکہ ہمیں ڈھیلے ڈھالے اور پیارے پیارے آدمی ہو کر  ریلیکس رہنے کا فن سیکھنا چاہیے ۔ 

اشفاق احمد زاویہ 2  زندگی سے پیار کی اجازت درکار ہے  صفحہ  176 

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15