طالبِ خدا

حضرت موسیٰ علیہ السلام  نے جناب باری میں عرض کیا کہ تیری بارگاہ میں میرا کونسا فعل پسندیدہ ہے تا کہ اسے میں  زیادہ کروں اور بار بار کروں ۔  حکم ہوا کہ یہ فعل ہمیں پسند آیا ہے کہ  زمانہ طفلی میں جب تمہاری ماں تم کو مارا کرتی تھی تو تم مار کھا کر بھی اسی کی طرف دوڑتے تھے اور اسی کی جھولی میں گھستے تھے ۔ پس طالبِ خدا کو بھی یہی لازم ہے کہ گو کیسی بھی سختی ہو ، کیسی بھی ذلت و خواری پیش آئے ، ہر حال میں خدا کی طرف متوجہ رہے اور اس کے فضل کا طلبگار رہے ۔ 
نہ کوئی ساجد نہ مسجود ، نہ عابد نہ معبود ۔  نہ آدم نہ ابلیس۔  صرف ایک ذات قدیم  ، صفات رنگا رنگ میں جلوہ گر ہے ۔ 
نہ اس کی ابتدا نہ انتہا ، نہ اس کو کسی نے دیکھا نہ سمجھا ۔ نہ فہم و  قیاس میں آئے ، نہ وہم و گمان میں سمائے ۔ جیسا تھا ویسا ہی ہے ۔ اور جیسا ہے ویسا ہی رہیگا ۔ نہ گھٹے نہ بڑہے نہ اترے نہ چڑہے ۔ وہ ایک ہے ۔  لیکن ایک بھی نہیں ، کیونکہ اس کو موجودات سے الگ سمجھنا نادانی اور حد رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دنیا میں طرح طرح کے کاروبار اور رنگا رنگ اشعال موجود ہیں ۔ ایسے ہی خدا جوئی اور خدا شناسی بھی ایک دھندہ ہے جس کا کوئی سر پیر نہیں ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 522