نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

طالبِ خدا

حضرت موسیٰ علیہ السلام  نے جناب باری میں عرض کیا کہ تیری بارگاہ میں میرا کونسا فعل پسندیدہ ہے تا کہ اسے میں  زیادہ کروں اور بار بار کروں ۔  حکم ہوا کہ یہ فعل ہمیں پسند آیا ہے کہ  زمانہ طفلی میں جب تمہاری ماں تم کو مارا کرتی تھی تو تم مار کھا کر بھی اسی کی طرف دوڑتے تھے اور اسی کی جھولی میں گھستے تھے ۔ پس طالبِ خدا کو بھی یہی لازم ہے کہ گو کیسی بھی سختی ہو ، کیسی بھی ذلت و خواری پیش آئے ، ہر حال میں خدا کی طرف متوجہ رہے اور اس کے فضل کا طلبگار رہے ۔ 
نہ کوئی ساجد نہ مسجود ، نہ عابد نہ معبود ۔  نہ آدم نہ ابلیس۔  صرف ایک ذات قدیم  ، صفات رنگا رنگ میں جلوہ گر ہے ۔ 
نہ اس کی ابتدا نہ انتہا ، نہ اس کو کسی نے دیکھا نہ سمجھا ۔ نہ فہم و  قیاس میں آئے ، نہ وہم و گمان میں سمائے ۔ جیسا تھا ویسا ہی ہے ۔ اور جیسا ہے ویسا ہی رہیگا ۔ نہ گھٹے نہ بڑہے نہ اترے نہ چڑہے ۔ وہ ایک ہے ۔  لیکن ایک بھی نہیں ، کیونکہ اس کو موجودات سے الگ سمجھنا نادانی اور حد رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دنیا میں طرح طرح کے کاروبار اور رنگا رنگ اشعال موجود ہیں ۔ ایسے ہی خدا جوئی اور خدا شناسی بھی ایک دھندہ ہے جس کا کوئی سر پیر نہیں ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 522

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…