چابی

خیرا گلی میں میرا ایک چھوٹا سا گھر تھا ۔ اس کے دو کمرے تھے ۔ ہم کبھی کبھی وہاں جاتے تھے ۔ جب کبھی وہاں جاتے تو آتے وقت اس کی دیکھ بھال غلام قادر کو سونپ دیتے ۔ وہ وہاں ڈاکخانے میں ملازم بھی تھا ۔ میری بیوی نے چابیاں دیتے ہوئے اسے کہا کہ " غلام قادر سردیاں آنے سے پہلے یا سردیاں آنے کے بعد چیزیں گھر سے باہر نکال کر انہیں دھوپ لگا لینا " ۔ اس نے کہا کہ " بہت اچھا جی "۔ 
غلام قادر نے وہ چابی لے کر ایک دوسری چابی بانو قدسیہ کو دی تو اس نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟
وہ کہنے لگا کہ یہ جی میرے گھر کی چابی ہے جب آپ نے اپنے گھر کی چابی مجھے دی ہے تو میرا فرض بنتا ہے میں اپنے گھر کی چابی آپ کو دے دوں ۔ کوئی فرق نہ رہے ۔ آپ مجھ پر اعتماد کریں اور میں نہ کروں یہ کیسے ممکن ہے۔ میری بیوی اس کی بات سن کر حیران رہ گئی ۔ 
خواتین و حضرات ! یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو اللہ نے ایسی عزت عطا کی ہوتی ہے کہ وہ عزت سے محروم نہیں ہوتے اور کہیں سے چھینا جھپٹی کر کے اکٹھی نہیں کرتے ۔

اشفاق احمد زاویہ 2 چیلسی کے با عزت ماجھے گامے  صفحہ 197