بڑائی

بڑائی اور برتری کی اپنی اپنی قسمیں ہیں ۔ جب ہم بڑائی کا سوچتے ہیں تو کچھ حاصل کرنے کے حوالے سے سوچتے ہیں۔ جب انبیاء بڑائی  کی سوچتے ہیں تو کچھ عطا کرنے کے حوالے سے سوچتے ہیں ۔ جب میں بڑائی کے حصول کی کوشش کرتا ہوں تو نوکر چاکر ، خدام ادب اور مال و دولت اور محل ماڑی کو حاصل کرنے کی طرف لپکتا ہوں ۔ لیکن جب نبی بڑے ہونے کا اظہار کرتے ہیں تو فرماتے ہیں ! پیاری بیٹی تو نے نوکر چاکر ، غلام اور لونڈی لے کر کیا کرنا ہے ، میں تمہیں ایک ایسا وظیفہ نہ بتا دوں جو تمہیں ہر مشکل پہ آسانیاں عطا کرتا رہے ۔ 

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 491