تضاد

کئی مرتبہ زندگی میں اور زندگی سے زیادہ ایمان کے اندر تضاد نظر آتا ہے ۔۔۔۔ یاد رکھو ایمان ہے ، سائنس نہیں  ۔ ایمان ایک موسم میں آگے بڑھتا ہے  ، دوسرے میں پورے کا پورا پیچھے  چلا جاتا ہے ۔ 

ایک وقت میں تم نمازیں پڑھتے ہو ، عبادت کرتے ہو ، پھر ڈھیلے ہو جاتے ہو ۔ 
آرام طلبی اختیار کر لیتے ہو ، جھگڑا کرنے لگتے ہو ، منفی ہو جاتے ہو ۔ 
جس طرح نیگیٹو اور پازیٹو دونوں تاریں مل کر بجلی کا بلب روشن کرتی ہیں ایسے ہی ایمان ہے ۔ اسی طاقت سے رخ موڑے جاتے ہیں ، پہاڑ کاٹے جاتے ہیں ۔ جب تم رکوع میں جاتے ہو ، سجدے میں جاتے ہو  سبحان ربی الاعلیٰ کہتے ہو  اور خدا سے اس علم کی بھیک مانگتے ہو کہ مجھے ایمان کے اندر رہ کر حرکت نصیب ہو تو پھر تمہارے سارے تضاد حق بن جاتے ہیں اور ساری تخریبیں تعمیریں ہو جاتی ہیں ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 524