نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فلسفہ زندگی

جہاں تک ممکن ہو ، ہلے گُلے ، خوش فکری اور خوش طبعی کی محفلوں سے گریز کریں ۔ ایسی محفلوں سے اجتناب کریں جہاں لوگ ایک دوسرے کو ذلیل کرنے اور ان کی ٹانگ کھینچنے کے لیے جمع ہوتے ہیں ۔ جہاں لوگ دوسروں کا ٹھٹھا  اڑانے اور دوسروں کی تضحیک کرنے اور اوپر سے تالیاں بجانے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں ۔  دوستی کے جھوٹے دعوے  اور یگانگت کے کوڑے بھرم رکھنے کا عکس مہیا کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کی تحریروں سے ان کی کتابوں اور رسالوں سے گریز کریں ۔ ہاں اگر آپ کو یہ یقین ہو کہ آپ اپنے مسلک پر سختی سے کاربند ہیں تو یہ دیکھنے کو کہ ان دنیا داروں کے درمیان کیا ہو رہا ہے ان کی تحریریں دیکھ لیں مگر صرف معلومات حاصل کرنے کے لیے ۔ اخبار تفریح اور معلومات کا ذریعہ نہیں ہیں ، یہ عقوبت خانے اور شاہی قلعے ہیں جو صبح ہی صبح آپ کو ٹکٹکی پر کس لیتے ہیں اور پھر دن بھر آپ کو درے مارتے ہیں ۔ اسی طرح ریڈیو اور ٹی ویسے بھی اجتناب کریں ۔ ان کے گانے اور ان کے اعضائے بدن کے کرب اور کسرت سے بھی پرہیز کریں ۔ اور جس بدنی دکھ میں یہ رقص کرتے ہیں اس سے عذر کریں ۔ وہ بظاہر بڑا لذیذ  نظر آتا ہے مگر اندر کرب سے بھرا ہوا ہے ۔ کبھی ان کے سگریٹ نہ پیئیں ، جو مشروبات یہ پیئیں وہ نہ پیئیں ۔ اور جن کھانوں کو یہ ڈھونڈھ  ڈھونڈھ کر اور تعریف کر کر کے کھاتے ہیں وہ بھی نہ کھائیں ۔ تمہارے باطن کا سفر رک جائے گا ۔ ان کے رسالوں اور اخباروں میں چھپی ہوئی تصویریں دیکھ کر اپنی زندگیوں کو مشکل میں نہ ڈالیں ۔ اپنی نظر صاف رکھیں ، کان بند رکھیں،اور ذہن پاکیزہ رکھیں ۔ اللہ کی پیدا کردہ صاف شفاف ہوا میں سانس لیں ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 395 

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…