فضل

اصل میں آج تک میرے سارے کام انسانوں نے ہی کیے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لطف بے پایاں اور خیرِ کثیر کے مجھ تک پہنچنے کا سامان ہمیشہ بندوں نے ہی کیا ہے ۔ بیماری میں میرا علاج کسی انسان نے کیا ۔ با عزت طور پر بری کسی انسان نے کیا ۔۔۔۔۔ نعمتیں ہمیشہ بندے ہی اٹھا کر ، دھو کر ، کاٹ کر ، سجا کر لائے ۔ جب اللہ نے مجھے خوش کرنا چاہا تو لوگوں سے ہی تالی بجوائی ۔ جب مجھے محبت عطا کرنی چاہی تو کسی شخص سے ہی مجھے جپھی ڈلوائی ۔ جب میں نے سفر کا ارادہ کیا تو ایک بندے کو ہی میرا پائلٹ بنایا ۔ مجھے پیسوں کی ضرورت پڑی تو  پے کلرک نے ہی مجھے پیسے لا کر دیے ۔ لیمن جوس مجھے ہمیشہ ایئر ہوسٹس نے پلایا ۔ اور میاں محمد بخش صاحب کے شعر مجھے بندے نے ہی سنائے ۔ اس کا فضل اور اس کا کرم ہمیشہ مجھے کسی انسان کی معرفت ہی پہنچا ۔
اشفاق احمد از بانو قدسیہ  مردِ ابریشم صفحہ 64