نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

صفائی

ہم اپنے گھروں کی صفائی کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔ کھڑے ہو کر صفائی کراتے ہیں ۔ کونے کھدرے کرید کرید کر صاف کرواتے ہیں ۔ الماریاں ، ڈبے ، درزیں ، میزیں سب کو جھاڑا تھرکایا جاتا ہے ۔ 
عین اسی طرح ہم کو اپنے وجود کی صفائی بھی کرنی چاہیے ۔ اس کو کسی دوسرے سے صاف نہیں کرایا جا سکتا ۔ اسے خود ہی جھاڑو دے کر صاف کیا جاتا ہے ۔ اندر کئی ڈبے ایسے ہیں جو ہم نے کبھی کھولے  ہی نہیں ۔ کچھ گمان ایسے ہیں جن کو ویسے کا ویسا ہی بند کر رکھا ہے ۔ ان بند ڈبوں اور گمانوں اور بد گمانیوں کے اندر عجب طرح کی بدبو پیدا ہو گئی ہے ۔ پھر کچھ بولے ہوئے جھوٹوں کے خالی لفافے اور شیشیاں ہیں ۔ ان سے عجیب طرح کی ہمک آرہی ہے ۔ سینے کے بڑے صندوق میں کچھ نفرتیں ہیں جن میں اب پہلے کے مقابلے میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ ان کا صفایا کرنا یوں مشکل ہے کہ ان میں ٹڈیاں ، جھینگر ، اور پسو پیدا ہو گئے ہیں ۔ اگر آپ یہاں دوائی پمپ کریں گے تو وہ شخصیتیں بھی کیڑے مکوڑوں کے ساتھ مر جائیں گی جن کو آپ نے نفرت کے لیے پالا ہوا ہے ۔ اس لیے بڑا صندوق اوندھا مار کر اسے زور سے تھپتھپانا پڑے گا ۔ پھر اپنی یادوں کی تہیں لگا کر اندر کپڑا پھیر کر صفائی کرنی پڑی گی ۔ چاہے کدورتیں ہوں ، چاہے نفرتیں ہوں ۔ اگر اندر کی صفائی ہوتی رہے تو سانس سے بدبو کے بھبھاکے ختم ہو جائیں گے ۔ یہ جو دنیا میں اتنے ماؤتھ واشز اور بریتھ فریشنرز بن رہے ہیں، ان کی ضرورت نہ رہے ۔ اگر اپنے وجود کی صفائی ہوتی رہے تو پھر ان سینٹوں کی ، کلونوں کی ، خوشبوؤں کی اور عطروں کی بلکل ضرورت نہ رہے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 511،512

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…