گھوڑا

بابا جی نے پوچھا  " ایک تیز رفتار گھوڑا ایک سست رفتار گھوڑے سے دس گنا اچھا کیوں ہوتا ہے "۔ 
وہ اس لیے سرکار چھوٹے صوفی نے کہا  " اس کی رفتار سست رو گھوڑے سے دس گنی ہوتی ہے " ۔
شاباش ! لیکن اگر وہ اپنی راہ سے بھٹک جائے تو پھر وہ دس گنا تیزی سے بد راہ پر بھی نکل جاتا ہے ۔ بابا جی نے کہا۔  
ہاں جی یہ تو ہے سرکار  ۔ 
لیکن ایک بات نہ بھولنا بچہ کہ جب اس تیز رفتار راہوار کو یہ معلوم ہو گیا کہ وہ غلط رستے پر آگیا ہے تو پھر وہ دس گنا تیزی سے سر پٹ بھاگ کر صحیح منزل کی طرف بھی نکل جائے گا ۔ یہی حال انسان کا ہے ۔ جب ایک پاک دل انسان نادم ہوتا ہے اور اپنے کیے پر شرمندہ ہوتا ہے تو تو اپنی منزل اس تیزی سے دوبارہ حاصل کر لیتا ہے ۔ لیکن سست رو آدمی سے یوں نہیں ہوتا ۔ 
جو پاک کا ساتھ دیتا ہے وہ پاک ہو جاتا ہے ۔ 

اشفاق احمد  بابا صاحبا صفحہ 402