معاشرہ

برِ صغیر میں عموماً چار خوبیاں یکجا ہوں تو راوی چَین ہی چَین لکھتا ہے ۔ ورنہ اپنا آپ منوانے کے لیے تقابل کے بیلنے میں اپنی بانہ ڈال کرمحنت کا رس نکلوانا پڑتا ہے ۔  
اگر انسان امیر ہو ، انگریزی کے لہجے پر عبور ہو ، گورا چٹا خوبصورت ، اور اونچی ذات والا کہلوائے تو ان چار خوبیوں کے باعث  ہمارے معاشرے میں وہ اڑتا سانپ بن سکتا ہے ۔ اگر دو ایک کوائف کم ہوں تو گھٹتی لڑتا ہے ۔ اور اپنے 
آئی  کیو اور محنت کا سہارا لے کر سیلف میڈ آدمی بن جاتا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں ایک مدت سے یہ چار تعویذ کام آتے رہے ہیں۔  جس شخص کے پاس ان کی کمی ہو ہمارے معاشرے میں اس کی عزت بحال نہیں ہو سکتی ۔ فقط متّقی ، پرہیزگار ، بے ضرر انسان ہو تو ہمارے معاشرے میں لوگ اسے ایویں کہویں ہی سمجھیں گے ۔ 

بانو قدسیہ  مردِ ابریشم صفحہ 35