نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

January, 2013 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

دوزخ کا خوف

ایک بار جمعہ کی نماز سے قبل میں ایک بابا جی کے پاس بیٹھا تھا ۔ اور اسپیکر پر ایک مولانا تقریر فرما رہے تھے ۔ وہ بابا جی کافی دیر خاموشی سے  مولانا کی تقریر کو توجہ سے سنتے رہے پھر اچانک مجھ سے مخاطب ہوئے ۔  انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ " یہ مولانا جو جو لوگوں کو خدا سے ڈرا رہے ہیں ( وہ مولانا دوزخ کی سزاؤں کے بارے میں بتا رہے تھے )۔اور بڑے  بڑے سانپوں اوردہکتی آگ کا ذکر کر رہے ہیں۔کیا یہ مسجد میں آئے ان لوگوں کو  یہاں سے بھگانا چاہتے ہیں ؟ " ۔  میں نے کہا بابا جی اس میں بھگانے کوئی  بات نہیں ۔ یہ لوگوں کو شاید اس لئے خوف دلا رہے ہیں کہ وہ برے کاموں سے اجتناب کریں ۔  بابا جی کہنے لگے  " کیا مسجد میں لوگ  خدا کے ڈر سے نہیں آتے ۔ اور کیا وہ برے کاموں سے اجتناب خدا کی محبت میں نہیں کر سکتے "۔  اب میں انہیں کیا جواب دیتا ۔  وہ کہنے لگے " کاکا ایک خدا جو انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت رکھتا ہے  ، جس مٹی کے پتلے کو اس نے بہترین ساخت پر بنایا  ہے کیا وہ ستر ماؤں کا پیار ایک طرف رکھ کر انہیں دہکتی آگ میں پھینکے گا "۔

اشفاق احمد زاویہ 3 کارڈیک اریسٹ صفحہ 260

نفسیات

ایک اور صاحب جو کہ مرد اور عورت تھے ان کو میں  " گریٹ " کر کے ان کے ساتھ چلا ، تو انہوں نے کہا  میڈم بہت خوش تھیں ۔ سب کو بتایا تھا کہ ہمارا ایک معزز مہمان آ رہا ہے ۔ میں آگے چلا گیا جا کر ایک بڑے حال میں ، انہوں نے مجھے اس خاتون نے اس مرد نے بٹھا دیا ۔ ایک لمبی سی میز تھی کالی سیاہ رنگ کی اور اس کے اوپر میں اکیلا بیٹھا تھا ۔ تو انہوں نے کہا میڈم کو ہم نے اناؤنس کر دیا ہے وہ آتی ہونگی۔ میں نے کہا ، بہت خوشی کی بات ہے۔ انہوں نے کہا، وہ معذرت کر رہی ہیں تھوڑا سا آپ کو انتظار کرنا پڑے گا۔ اب بیٹھے بیٹھے مجھ کو مشکل سے چار،پانچ منٹ ہوئے ہونگے اور میں تھوڑا سا بور بھی ہو رہا تھا۔ وہاں سیڑھیاں تھیں آٹھ دس وہاں سے ٹپ ٹپ کرتا ہوا ایک لڑکا جس نے نیلی نیکر پہنی ہوئی، کالے سیاہ بوٹ اور کتنے سارے بٹنوں والی ایک جیکٹ سی پہنی ہوئی وہ نیچے اترا۔ لڑکا کوئی سات آٹھ سال کا تھا۔ نیچے اترا۔ کھٹ کھٹ کر کے مجھ تک پہنچا۔ میں نے مسکرا کر کہا، بنجو جی۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ اور سیدھا میرے پاس آ کر کھڑا ہو کے غور سے میری شکل دیکھنے لگا۔ اب میں بڑا ایمپریس ہو رہا تھا۔ میں نے اس کو کہا، ہاؤ آر یو ؟ …

حکیمانہ نقطہ

یہ ایک افلاکی اور سماوی قانون ہے کہ جس قسم کا رویہ انسان کا اپنی ذات سے ہوگا اسی طرح کا دوسرے لوگوں سے ہوگا ۔ مطلب یہ کہ جیسے ایک شخص ترشی سے یا محبت سے اپنی ذات سے پیش آتا ہوگا اسی طرح دوسرے لوگوں سے پیش آنے پر مجبور ہوگا ۔ انسان کے اندر کا عمل دوئی کا شکار نہیں ہوتا ، وہ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے ۔ اور یہ ایک سا عمل  ایک سا رویہ رکھتا ہے ، اپنے لیے بھی دوسروں کے لیے بھی ۔ اپنے لیے ذرا اچھا سا میوزک بجاؤ اور مزا لو تو دوسرے بھی اس سے لطف لیں گے ۔ اور تمہارے ارد گرد بیٹھے لوگ اسی  طرح سے جھومنے لگیں گے ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 548

ہاتھ، پاؤں

ایک عالم ، بادشاہ شاہجہاں کے ساتھ  کسی کامل کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ وہ کامل جس طرح پاؤں پھیلائے تھے ، پھیلائے رہے ۔ عالم ظاہر بین نے کہا ، اتنا بڑا سلطان حاضرِ خدمت ہوا اور آپ نے کچھ بھی اس کی تعظیم نہ کی ۔ فرمایا کہ میاں !  جب تک ہاتھ پھیلائے تھے پاؤں سمیٹے رہے  ۔ جب  ہاتھ سمیٹ لیے تو پاؤں خودبخود پھیل گئے ۔ 
 اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 608

دل

اس وقت ہم عذاب میں ہیں ، ساری دنیا عذاب میں ہے ۔ لیکن اس کی وجہ کیا ہے ؟ کارن کیا ہے ؟ مگر اس وجہ کو ڈھونڈھنے کے لیے  دور جانے کی ضرورت نہیں ۔ دماغ بالکل ٹھیک ہے اور اپنی جگہ چوکس ہے ۔ فقط دل گھاٹے میں آگیا ہے  اور اپنے مقام سے ہل گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آگہی  اور جانکاری کسی علم سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ تجربے سے ملتی ہے ۔ وہ آنکھیں جو زندگی کی راہوں کو روشن کرتی ہیں وہ دماغ کی آنکھیں نہیں ہوتیں بلکہ دل کی آنکھیں ہوتی ہیں ۔ اگر دل اندھا ہے تو زندگی کی راہ تاریک ہی رہے گی   اور ساری عمر تاریکی میں گذر جائے گی۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 607

سیدھا راستہ

دکھا ہم کو سیدھا راستہ ۔ راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے اپنا کرم کیا ۔  صراطِ مستقیم کے لوگ سیدھی راہ پر چلتے ہیں ۔کاش میں ان کے نقوشِ پا پر چل سکتا ۔ حضرت بلالؓ چلے جا رہے ہیں ، میری آرزو ہے میں ان کا غلام ہوتا۔ ان کا  بکسہ اور ٹوکری اور جوتے میرے ہاتھ میں ہوتے اور میں اس راہ پر چلتا رہتا جس پر وہ چلے جا رہے ہیں ۔ میں ان کے گھر کا مالی ہوتا ۔ اندر سے مجھے حکم ملتا اور میں سودا سلف وغیرہ خرید کر لایا کرتا ۔ واپس آتا جھڑکیاں کھاتا ، چاہے ان کے دوسرے رشتیدار مجھ پر سختی کرتے لیکن مجھے اس تعلق سے خوشی ہوتی کہ میں ان کا ملازم ہوتا ۔ وہ حضورﷺ سے مل کر آتے میں ان کو دیکھ لیا کرتا ، اتنی ہی میری حیثیت ہوتی ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 463

روشنی

دھند کے اندر سے جو روشنی کا ایک سوال نکلا ہے  وہ یہ ہے کہ ہمیں بالکل چھوٹا ایک کام کرنا ہے ۔  اپنے ارد گرد کے بندوں کو ، نہایت چھوٹے بندے کو یہ تسّلی اور تشّفی عطا کرنی ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ۔ تم میرے ساتھ ہو ۔ اور ایک ساتھ ہم نے آگے چلنا ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ  دل کا معاملہ صفحہ 314

مقناطیس

آپ تو در اصل مقناطیس ہیں اور مشکلات وہ لوہے کے ذرے ہیں جو آپ سے چمٹے ہیں ۔  شہر بدلنے سے ، لباس تبدیل کرنے سے ، مزاج بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا ۔ وہ تو ایک خاص طرح کی رحمت ہوتی ہے ۔ جو بندہ اللہ سے درخواست کرے کہ مجھ پر خصوصی فضل فرمایا جائے تا کہ میں اس عذاب سے نکلوں ۔ تب نجات ملتی ہے لیکن چیزیں تبدیل کرنے سے یا چھوڑنے سے ، یا نئی چیزیں اختیار کرنے سے ایسا ہوتا نہیں ۔

اشفاق احمد زاویہ  چیزوں کی کشش صفحہ 308

راستہ

اس تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ۔ کیونکہ اپنے تک پہنچنے کے لیے کسی راستے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ راستے تو دوسروں تک پہنچنے کے لیے ہوتے ہیں ۔ مسافت طے کرنے کے لیے ہوتے ہیں ۔ یہاں کوئی مسافت ہی نہیں ۔ وہ تو شہ رگ سے بھی نزدیک ہے ۔  میری شہ رگ سے ! اس لیے کہیں جانا نہیں ہوتا ۔ بس اُس کو یاد کرنا ہوتا ہے، یاد رکھنا ہوتا ہے ۔ اور کچھ کرنا ہی نہیں ، اس کو جاننا نہیں اس کو پانا ہے ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 583

یا وُدُودُ

میں نے اپنی خالہ کو کافی پریشان دیکھا ، کیونکہ میرے خالو کی زندگی میں کچھ اور ہی طرح کا ٹیڑھا پن پیدا ہو رہا تھا۔ اور وہ کچھ اور طرح سے ، اور کچھ اور لوگوں میں ، پاپولر ہو رہے تھے ۔ اور جب خاوند میں ذرا سی ٹیڑھ پیدا ہو جائے تو بیوی کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔  میری  خالہ پوچھتی تھیں کہ کس طرح سے ہو کہ  اکرام خان صاحب (میرے خالو ) جو ہیں وہ راستے پر آجائیں ، اور میری محبت میں مبتلا رہیں ، اور میرا گھر آباد رہے ۔  تو اس وقت مجھے یاد ہے ، کسی نے ان کو بتایا تھا ، میں سمجھتا ہوں آج بھی یہ ذکر بڑا کار آمد ہوگا ، خاص طور پر خواتین کے لیے  کہ جب گھر میں اس طرح کی الجھنیں ہوں تو کیا ، کیا جانا چاہیے ۔ تو انہیں کسی نے بتایا تھا کہ  آپ ایک ہزار مرتبہ " یا ودود " کا ورد کر کے اپنے خاوند کو کھانے پر دم کر کے کھلائیں ، اور آپ بھی بیٹھ کر کھائیں ۔  اس سے محبت اور یگانگت بڑھتی ہے ۔  اس سے آپ کا بھی فائدہ ہوگا ۔ اللہ کا ذکر بھی ہوگا ، بے چینی بھی کم ہوگی ،  جو ہمارے ہاں بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔  میں اپنی خالہ کو دیکھتا تھا کہ وہ بہت پریشان تھیں ، لیکن اللہ کے فضل سے، اور اس رخ پر استقام…

اُلفت

مرد کو اپنے ذاتی استعمال کے سامان میں بڑی دل چسپی ہوتی ہے ۔ عورت کو دوسروں کو دکھانے کے سامان میں آنند آتا ہے۔ جب تک عورت مرد کا سامان رہتی ہے وہ اس پر جان چھڑکے جاتا ہے ، اس کے لیے حلال ہوتا رہتا ہے ۔ جب وہ آزاد اور خود مختار ہو جاتی ہے تو مرد اس کی ایک آزاد اور خود مختار فرد کی حیثیت سے عزت کرنے لگتا ہے ۔ اور دونوں کے درمیان باہمی اُلفت کے بجائے تعظیم کا جذبہ کارفرما ہوجاتا ہے ۔ 
اشفاق احمد  سفر در سفر  صفحہ 66

بونا

بیرونی حالات کی تبدیلی  انسان کی اندرونی اور روحانی خوشی کا باعث نہیں بن سکتی ۔ اگر ایک بونے کو پہاڑ پر کھڑا کر دیا جائے تو بھی وہ بونا ہی رہتا ہے ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 547

نظر

ایک روز ہم ڈیرے پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں نے اپنے بابا جی سے پوچھا " جناب ! دنیا اتنی خراب کیوں ہوگئی ہے۔ اس قدر مادہ پرست کیوں کر ہو گئی ہے " ۔  بابا جی نے جواب دیا ! " دنیا بہت اچھی ہے ۔ جب ہم اس پر تنگ نظری سے نظر ڈالتے ہیں تو یہ ہمیں تنگ نظر دکھائی دیتی ہے ۔ جب ہم اس پر کمینگی سے نظر دوڑاتے ہیں تو یہ ہمیں کمینی نظر  آنے لگتی ہے ۔ جب اسے خود غرضی سے دیکھتے ہیں تو یہ خود غرض ہو جاتی ہے ۔ لیکن جب اس پر کھلے دل ، روشن آنکھ اور محبت بھری نظر سے نگاہ دوڑاتے ہیں تو پھر اسی دنیا میں کیسے پیارے پیارے  لوگ نظر  آنے لگتے ہیں "۔
اشفاق احمد زاویہ 3 خدا سے زیادہ جراثیموں کا خوف صفحہ 227

عقل اور جذبہ

انسانی زندگی میں عقل بھی ہے اور جذبہ بھی ۔ دونوں کو تدریس کی ضرورت ہے ۔ جاننے کے لیے عقل کی بھی ضرورت ہے اور جذبے کی بھی ۔ دونوں کی ساتھ ساتھ تربیت ہونی چاہیے ۔ جس طرح ہل کے دو بیل ہوتے ہیں کہ ساتھ ساتھ قدم اٹھاتے ہیں۔ عین اس طرح سے ، جو شخص محض عقل پر انحصار کرتا ہے وہ ایک ٹیپ رکارڈر سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا ۔ جو صرف جذبے کا دھنی ہے وہ ایک آتش فشاں پہاڑ ہے ۔  ذہن قابلِ عمل معلومات حاصل کرتا ہے ، جذبہ ان کو عمل میں ڈھالتا ہے ۔ جو کچھ آپ اس وقت سن رہے ہیں وہ انفارمیشن ہے ۔ معلومات ہے ۔ عقل ہے ۔ جب آپ اس کو عمل میں لائیں گے تو وہ جذبہ ہوگا ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 552

دتے وچوں دینا

رکشہ سے اترے تو میں نے رکشہ والے کو کچھ پیسے دیے ۔ اس کے کوئی تین روپے اسی پیسے بنتے تھے ۔ میں نے اس کو چار روپے دے دیے ۔ میں یہ سمجھا کہ میں نے بہت بڑا معرکہ مارا ہے تو بابا جی نے پوچھا  ، پت پیسے دے دیے ؟ میں نے کہا دے دیے ۔ کہنے لگے کتنے دیے ؟ میں نے کہا چار روپے ۔ تو کہنے لگے کیوں ؟ میں نے کہا اس کے تین روپے پچاس پیسے یا اسی پیسے بنتے تھے میں نے اسے چار دے دیے ۔ انہوں نے کہا نہیں پنج دے دینے سی ۔ میں نے کہا پانچ ؟  مجھے بڑا دھچکا لگا کہ پانچ کیوں دے دوں ۔ میں نے کہا کیوں ؟ کہنے لگے تسیں وی تاں دتے وچوں دینے سی ، تسیں کہڑے پلیوں دینے سی ۔ (خدا کے دیے ہوئے پیسوں سے دینے تھے کون سی اپنی جیب سے ادا کرنے تھے )۔ 
اشفاق احمد زاویہ دیے سے دیا  صفحہ 48

ٹیچر ان دی کورٹ

اگر آپ کو روم جانے کا اتفاق ہوا ہو  تو " پالاس آف دی جستی "  (پیلس آف دی جسٹس) وہ رومن زمانے کا  بہت بڑا وسیع و عریض ہے اسے تلاش کرتے کرتے ہم اپنے جج صاحب کے کمرے میں پہنچے تو وہ وہاں تشریف فرما تھے ۔ مجھے ترتیب کے ساتھ بلایا گیا تو میں چلا گیا ۔ اب بالکل میرے بدن میں روح نہیں ہے ، اور میں خوفزدہ ہوں ، اور کانپنے کی بھی مجھ میں جرئت نہیں ۔ اس لیے کہ تشنج جیسے کیفیت ہو گئی تھی ۔ انہوں نے حکم دیا ، آپ کھڑے ہوں اس کٹہرے کے اندر ۔ اب عدالت نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا چالان ہوا تھا ، اور آپ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ آپ یہ بارہ آنے ڈاک خانے میں جمع کروائیں ، کیوں نہیں کروائے ؟ میں نے کہا جی ، مجھ سے کوتاہی ہوئی ، مجھے کروانے چاہیے تھے ، لیکن میں ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا ، کتنا وقت عملے کا ضائع ہوا ۔ کتنا پولیس کا ہوا ، اب کتنا " جستیک کا " ( جسٹس عدالت کا ہو رہا ہے ) اور آپ کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے تھا ۔ ہم اس  کے بارے میں آپ کو کڑی سزا دیں گے ۔ میں نے کہا ِ میں یہاں پر ایک فارینر ہوں ۔ پردیسی ہوں ۔ جیسا ہمارا  بہانہ ہوتا ہے ، میں کچھ زیادہ آداب نہیں سمجھتا ۔ قانون سے میں واق…

قضا

ایک دن میں شام کے وقت گیا اور ہم وہاں مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے تو بابا جی میرے ساتھ کھڑے تھے ۔ مولوی صاحب نماز پڑھا رہے تھے تو ایک  آدمی روتا ، چیختا چلاتا ہوا آیا ۔ کہنے لگا کہ جلدی چلو یونس کو تو مرض الموت ہوگیا ، اور اس کا گھنگھرو بج رہا ہے ، اور وہ مرنے کے قریب ہے ۔ اس نے کہا ہے کہ بابا جی کو بلا کر لاؤ۔ وہ میرے سرہانے بیٹھ کر سورہ یٰسین پڑھیں ۔ اس وقت ہم نماز پڑھ رہے تھے ۔ تو بابا جی نے مجھے کہنی مار کے کہا ، بیٹا نیت توڑ دو ۔ نماز پڑھتے ہوئےنیت کیوں توڑی جائے ؟ میں پہلے ان کی اس بات کو نہیں سمجھا ، لیکن انہوں نے کہا نیت توڑ دو ۔ میں نے کہا ، اچھا جی۔ میں چونکہ انڈر ٹریننگ تھا تو میں نے کہا جیسے یہ کہتے ہیں ٹھیک ہے ۔ کہنے لگے ، دیکھو اعلان ہوگیا ایک آدمی مشکل میں ہے ۔ پہلے اس کی مشکل دور کی جانی چاہیے ، پھر آ کر ہم نماز پڑھ لیں گے ۔ بعد میں پڑھ لیں گے ، کیونکہ نماز کی قضا ہے خدمت کی قضا نہیں ۔ کوئی آدمی سائیکل سے گر جائے ، زخمی ہو جائے ۔ آپ کہیں میں مغرب پڑھ آؤں پھر آ کے اٹھاتا ہوں ۔ یہ ٹھیک نہیں ۔ اب یہ بات میرے لیے نئی تھی اور عجیب تھی ۔

اشفاق احمد زاویہ دیے سے دیا صفحہ 48

نکتہ چینی

ابھی پچھلے جمعے کی بات ہے کہ میں اخبار پڑھ پڑھا کر اور نہا دھو کر مزے سے کرسی پر بیٹھا تھا تو میں نے اچانک محسوس کیا کہ میں کس قدر مزے میں ہوں ۔ اور کس آسانی کے ساتھ یہ وقت گذار رہا ہوں ۔ پھر میرے ذہن میں آسان آسان چیزوں کی پھوار سی پڑنے لگی اور میں مزید آسان چیزوں کے نقشے بنانے لگا ۔  میں نے اندازہ لگایا کہ اس دنیا میں نکتہ چینی سب سے آسان شے ہے ۔  کہ اس کے لیے نہ تو کوئی محنت کرنے کی ضرورت ہے اور نہ کچھ خاص ذہن رکھنے کی ۔ احمق سے احمق انسان بھی بڑی آسانی کے ساتھ نکتہ چیں بن سکتا ہے  ۔  اور مشکل سے مشکل کام پر دل کھول کر تنقید کر سکتا ہے ۔ پھر میں نے اپنے ارد گرد کا جائزہ لیا تو محسوس کیا کہ ہمارے ملک میں تعمیری کام کرنے والوں کے مقابلے میں نقادوں اور نکتہ چینوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ اور ان میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ حالانکہ اصل کام کسی شے کو بنانے یا کسی بگڑی ہوئی چیز کو ٹھیک کرنے میں ہے ۔ کسی ایک چیز ، کسی ایک شے کو ۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں لوگ ایک چیز کو ٹھیک کرنے کے بجائے ایک لاکھ چیزوں پر نکتہ چینی کرنے کو افضل گردانتے ہیں ۔

 417اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ

فنا اور توحید

توحید کے چار مراتب ہیں ۔ ایک منفرد ، دوسرا مغز کا مغر  تیسرا چھلکا اور چوتھا چھلکے کے اوپر کا چھلکا ۔۔۔۔۔ توحید کو ایک اخروٹ سمجھ لیں جس پر دو چھلکے ہوتے ہیں اور اندر ایک مغر اور مغز میں تیل ۔ پس توحید کا اول مرتبہ ہے کہ آدمی  اپنی زبان سے کہے  لا اِلٰہ  الاللہ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر دل اس سے غافل ہو یا منکر ۔  دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ اس کلمے کے معنیٰ کو دل سے سچ جانتا ہو جیسے عام مسلمان اس کی  تصدیق کرتے ہیں ۔  مرتبہ سوم یہ ہے کہ نورِ حق سے مشاہدہ ہو کہ یہ معنیٰ کھل جائیں  یہ (مقام مقربین کا ہے ) مقربین کون ہوتے ہیں ! وہ جو اشیاء کو تو کثیر جانیں کہ دنیا ان سے بھری ہوئی ہے لیکن اس ساری کثرت کو اللہ کی طرف سے سمجھیں اور چوتھا  مرتبہ یہ ہے کہ دنیا کی کل اشیاء اور سب موجودات سے نظریں ہٹا کر ذاتِ واحد اور یکتا کے کسی اور کو نہ دیکھے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 457

غنڈہ

میں کندھے پہ ڈانگ رکھ کہ حقیقتوں سے لڑتا رہتا ہوں ۔  مجھے حقیقتوں سے ڈیل کرنے کا طریقہ نہیں آتا ۔  میرے اندر کا غنڈہ لوگوں سے  اصولوں کے نام پر جگا ٹیکس وصول کرتا ہے ۔  وہ بار بار ایک ہی فقرہ دہراتا ہے کہ " میں اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا "۔ میرے اندر کے غنڈے کے پاس اپنے ہر عمل کے لیے ایک منطق ہوتی ہے ، ایک وجہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ وجہ ہر مرتبہ آئیڈیلسٹک ہوتی ہے ۔ 
اشفاق احمد  بابا صاحبا  صفحہ  444

صفا مروہ

صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے بڑے بڑے مرد ، بادشاہ ، سیاستدان ، تاجر ، عالم ، فلسفی ، بوڑھے ، نوجوان بھاگتے ہیں ۔ اور اس عورت کی نقل میں بھاگتے ہیں جو پانی کی تلاش میں بھاگی تھی ۔ ابد تک کے لیے رسم قائم کر دی گئی ہے ۔ مرد منہ اٹھا کر خانہ کعبہ کی طرف دیکھتے ہیں اور بھاگتے ہیں ۔ عورتیں چپ چاپ چلتی ہیں ۔ انہیں بھاگنے کا حکم نہیں ہے ۔  بی بی ہاجرہ کا  کا مرتبہ بلند کرنے اور ان کے حوالے سے ساری عورتوں کا درجہ بلند کرنے کے  لیے یہ رسم قائم کر دی گئی ہے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 462

محبت

محبت!  اس ایک لفظ میں انسان کے خداتک پہنچنے کا راز پوشیدہ ہے ۔ اور اس ایک لفظ کے اندر ہی ساری کائنات ہے ۔ لیکن ! ایک بات یاد رکھنا کہ محبت تم اس وقت کر سکو گے جب تم اندر سے خوش اور پر باش ہو گے ۔ محبت جھنڈی نہیں ہے کہ گھر کے باہر لگا لی یا تمغہ نہیں ہے کہ سینے پر سجا لیا ۔ یا پگڑی نہیں ہے کہ خوب کلف لگا کر سر پرباندھ لی ، دستارِ محبت! یہ تو تمہاری روح ہے اندر کا اندر ۔ اور تمہاری آتما کی آتما ہے ۔ اس کو تو دریافت کرنا پڑے گا ۔ ڈھونڈھنا پڑے گا ، اس کی کھوج لگانی ہوگی ۔ یہ عائد نہیں کی جاتی اندر سے باہر لائی جاتی ہے ۔

اشفاق احمد زاویہ 3 محبت کی حقیقت صفحہ 242

ضمیر

قدرت نے انسان کو ایک ایسی بڑی نعمت سے نوازا ہے جسے ہم ضمیر کہتے ہیں ۔ جب بھی ہم سے کوئی اچھائی یا برائی
سرزد ہو تو یہ اپنے خصوصی سگنل جاری کرتا ہے ۔ ان سگنلز میں کبھی شرمندگی کا احساس نمایاں ہوتا ہے تو کبھی کبھی  ضمیر سے آپ کو "ویری گڈ " کی آواز آتی ہے ۔ آپ کسی یتیم کے سر پر دستِ شفقت رکھتے ہیں یا کسی نابینا کو اپنا ضروری کام چھوڑ کر سڑک پار کرواتے ہیں تو آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے ضمیر نے آپ کو شاباش دی ہے ۔ پیار سے تھپکی دی ہے ۔ انسان خود میں عجیب طرح کی تازگی اور انرجی محسوس کرتا ہے ۔  جب ہم اپنے کسی نوکر کو جھڑکیاں دیتے ہیں ، کسی فقیر کو کوستے ہیں یا کوئی بھی ایسا عمل کرتے ہیں جس کی ہمیں ممانعت کی گئی ہے تو یہ ضمیر تنگی محسوس کرتا ہے ۔ ایک ایسا سگنل بھیجتا ہے جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ شاید یہ کام کچھ درست نہیں ہوا۔

اشفاق احمد زاویہ  3 ضمیر کا سگنل صفحہ 233

عزتِ نفس

انسان میں اپنی کمزوریاں اور اپنے اندر جو خامیاں ہوتی ہیں ، ان کو تسلیم نہیں کرتا ۔ دوسروں میں جو خوبی ہے وہ مجھ میں کیوں نہیں ، اسے یا تو حسد کہ سکتے ہیں یا انسان کی شخصی کمزوری کہ سکتے ہیں ۔  کچھ قدرتی کمزوریاں ہوتی ہیں ۔ کچھ لوگ قدرتی طور پر خوبصورت پیدا ہوتے ہیں ۔ وہ مارجن لے کر آتے ہیں ۔اور جس کے پاس مارجن نہیں ،  وہ کیا کرے ؟  صورت کو ایک معیار بنا دیا گیا ہے ۔  آدمی جتنا بڑا ہوتا جاتا ہے اتنا بڑا اس کا ظرف ہو جاتا ہے ۔ وہ چیزں کو برداشت بھی کر لیتا ہے ۔ سن بھی لیتا ہے۔  کنڈم بھی نہیں کرتا ۔ اگر ایسی صورتِ حال پیدا کی جائے کہ ہر آدمی کو عزتِ نفس ملے اس کو بڑا ہونے کا احساس دیا جائے تو پھر وہ اپنے خامیوں پہ قابو پا لے گا اور دوسروں کو کنڈم نہیں کرے گا ۔ 

اشفاق احمد زاویہ  بہروپ  صفحہ 13 

ترکِ دنیا

ترکِ دنیا یہ نہیں کہ کوئی شخص کپڑے اتار کر برہنہ ہو جائے ، اور لنگوٹ باندھ کر بیٹھ جائے ۔ ترکِ دنیا یہ ہے کہ وہ لباس بھی پہنے ، کھانا بھی کھائے ۔ البتہ جو کچھ اس کے پاس آئے اسے خرچ کرتا رہے ، جمع نہ کرے ۔ اس کی طرف راغب نہ ہو اور دل کو کسی چیز سے وابستہ نہ کرے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 308

بلونگڑے

آپ نوجوان ہیں آپ نے گاؤں میں بڈھوں بابوں کو دیکھا ہوگا وہ صبح سویرے کھیس کی بکل (موٹی چادر اوڑھ کر) باہر دیوار کے ساتھ لگے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ اور جب ان کا کوئی پوتا پوتی پاس سے گذرتے ہیں تو جھپٹ کر پکڑ لیتے ہیں ، اور گود میں بٹھا لیتے ہیں ، اور کہتے ہیں کہ  تیری ماں کو تو کچھ عقل ہی نہیں ہے ۔ شکل دیکھی ہی اپنی ، منہ بھی نہیں دھویا ۔ اور وہ اپنے اس کھیس کو تھوک لگا لگا کر پوتے یا پوتی کا چہرہ صاف کرتے رہتے ہیں جس طرح بلی اپنی بلونگڑے کو چاٹ کر خوبصورت بنا دیتی ہے ۔ وہ دادا بھی اپنے پوتے یا پوتی کو خوبصورت بنا دیتا ہے ۔ ایسے ہی جب آپ خدا کی حضوری میں یا اس کی جھولی میں چلے جاتے ہیں اور پکار کر کہتے ہیں  " مجھے آپ ہی عطا کرو ، میں تو اس قابل نہیں ہوں ۔ میں اپنی خود صفائی نہیں کر سکتا " ۔ تو پھر یقیناًخدا کی خاص توجہ ملتی ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  ڈبو اور کالو  صفحہ 139

رکوع

میں نے ندی کنارے لڑکیوں کو پانی بھرتے دیکھا اور میں دیر تک کھڑا ان کو دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ پانی بھرنے کے لیے جھکنا پڑتا ہے اور رکوع میں جائے بغیر پانی نہیں بھرا جا سکتا ۔ ہر شخص کو رکوع میں جانے کا فن اچھی طرح سے آنا چاہیے تا کہ وہ زندگی کی ندی سے پانی بھر سکے ، اور سَیر ہو سکے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ انسان جھکنے اور خم کھانے کا آرٹ آہستہ آہستہ بھول رہا ہے اور اس کی زبردست طاقتور انا اس کو یہ کام نہیں کرنے دیتی ۔ یہی وجہ ہے کہ ساری دعائیں اور ساری عبادت اکارت جا رہی ہے اور انسان اکھڑا اکھڑا سا ہو گیا ہے ۔  اصل میں زندگی ایک کشمکش اور جدوجہد بن کر رہ گئی ہے ۔ اور اس میں وہ مٹھاس ، وہ ٹھنڈک اور شیرینی باقی نہیں رہی جو حسن اور توازن اور ہارمنی کی جان تھی ۔ اس وقت زندگی سے جھکنے اور رکوع کرنے کا پر اسرار راز رخصت ہو چکا ہے ۔ اور اس کی جگہ محض جدوجہد باقی رہ گئی ہے ۔ ایک کشمکش اور مسلسل تگ و تاز ۔  لیکن ایک بات یاد رہے کہ یہ جھکنے اور رکوع میں جانے کا آرٹ بلا ارادہ ہو ورنہ یہ بھی تصنع اور ریاکاری بن جائے گا ۔ اور یہ جھکنا بھی انا کی ایک شان کہلائے گا ۔
اشفاق احمد بابا صا…

شخصیتوں کا ٹکراؤ

ہم نے اکثر سنا ہے اور دیکھا بھی ہے لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ شخصیتوں کا ٹکراؤ کیوں ہوتا ہے ۔ اصل میں یہ ان الجھی ہوئی شخصیتوں کے درمیان کا قصہ ہے جو اپنے دلائل باطل ہو جانے کے خوف سے انہیں جتوانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بحث میں جیتنا وہ اس لیے چاہتے ہیں تا کہ اپنی جو تصویر انہوں نے اپنے ذہن میں بنا رکھی ہے اس کو تقویت پہنچائی جا سکے ۔ لیکن خیالوں کو اور سایوں کو کوئی بھی تقویت نہیں پہنچا سکتا ۔ اس لیے وہ سارا جھگڑا اور بحث و مباحثہ اکارت جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک آزاد انسان کسی بھی ایسے ٹکراؤ کا شکار نہیں ہوتا ۔ وہ الجھتا ہی نہیں اور کسی سے لڑتا ہی نہیں ۔ کیونکہ اسے کوئی بات پایہ ثبوت تک پہنچانی ہی نہیں ہوتی ۔ یہ اس کی ذمیداری ہی نہیں ہوتی ۔ وہ اپنے خود ساختہ فوٹو گرافوں سے بہت اونچا ہوتا ہے ۔ اگر کوئی شخص غصے سے اس پر چڑھائی بھی کرتا ہے تو بھی وہ خاموش رہتا ہے ۔ اس کو کچھ ہوتا ہی نہیں ۔  غصہ صرف اس وقت حملہ کرتا ہے اور اس وقت تکلیف دیتا ہے جب یہ انسان کی جھوٹی شخصیت اور جھوٹے وجود کو اسٹرائیک کرتا ہے ۔
ایک آزاد انسان کا جھوٹا سیلف ہوتا ہی نہیں ۔ 
 اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 574