فنا اور توحید

 توحید کے چار مراتب ہیں ۔ ایک منفرد ، دوسرا مغز کا مغر  تیسرا چھلکا اور چوتھا چھلکے کے اوپر کا چھلکا ۔۔۔۔۔ توحید کو ایک اخروٹ سمجھ لیں جس پر دو چھلکے ہوتے ہیں اور اندر ایک مغر اور مغز میں تیل ۔ پس توحید کا اول مرتبہ ہے کہ آدمی  اپنی زبان سے کہے  لا اِلٰہ  الاللہ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر دل اس سے غافل ہو یا منکر ۔  دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ اس کلمے کے معنیٰ کو دل سے سچ جانتا ہو جیسے عام مسلمان اس کی  تصدیق کرتے ہیں ۔  مرتبہ سوم یہ ہے کہ نورِ حق سے مشاہدہ ہو کہ یہ معنیٰ کھل جائیں  یہ (مقام مقربین کا ہے ) مقربین کون ہوتے ہیں ! وہ جو اشیاء کو تو کثیر جانیں کہ دنیا ان سے بھری ہوئی ہے لیکن اس ساری کثرت کو اللہ کی طرف سے سمجھیں اور چوتھا  مرتبہ یہ ہے کہ دنیا کی کل اشیاء اور سب موجودات سے نظریں ہٹا کر ذاتِ واحد اور یکتا کے کسی اور کو نہ دیکھے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 457