نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

قضا

ایک دن میں شام کے وقت گیا اور ہم وہاں مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے تو بابا جی میرے ساتھ کھڑے تھے ۔ مولوی صاحب نماز پڑھا رہے تھے تو ایک  آدمی روتا ، چیختا چلاتا ہوا آیا ۔ کہنے لگا کہ جلدی چلو یونس کو تو مرض الموت ہوگیا ، اور اس کا گھنگھرو بج رہا ہے ، اور وہ مرنے کے قریب ہے ۔ اس نے کہا ہے کہ بابا جی کو بلا کر لاؤ۔ وہ میرے سرہانے بیٹھ کر سورہ یٰسین پڑھیں ۔ اس وقت ہم نماز پڑھ رہے تھے ۔ تو بابا جی نے مجھے کہنی مار کے کہا ، بیٹا نیت توڑ دو ۔ نماز پڑھتے ہوئےنیت کیوں توڑی جائے ؟ میں پہلے ان کی اس بات کو نہیں سمجھا ، لیکن انہوں نے کہا نیت توڑ دو ۔ میں نے کہا ، اچھا جی۔ میں چونکہ انڈر ٹریننگ تھا تو میں نے کہا جیسے یہ کہتے ہیں ٹھیک ہے ۔ کہنے لگے ، دیکھو اعلان ہوگیا ایک آدمی مشکل میں ہے ۔ پہلے اس کی مشکل دور کی جانی چاہیے ، پھر آ کر ہم نماز پڑھ لیں گے ۔ بعد میں پڑھ لیں گے ، کیونکہ نماز کی قضا ہے خدمت کی قضا نہیں ۔ کوئی آدمی سائیکل سے گر جائے ، زخمی ہو جائے ۔ آپ کہیں میں مغرب پڑھ آؤں پھر آ کے اٹھاتا ہوں ۔ یہ ٹھیک نہیں ۔ اب یہ بات میرے لیے نئی تھی اور عجیب تھی ۔

اشفاق احمد زاویہ دیے سے دیا صفحہ 48

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…