عقل اور جذبہ

انسانی زندگی میں عقل بھی ہے اور جذبہ بھی ۔ دونوں کو تدریس کی ضرورت ہے ۔ جاننے کے لیے عقل کی بھی ضرورت ہے اور جذبے کی بھی ۔ دونوں کی ساتھ ساتھ تربیت ہونی چاہیے ۔ جس طرح ہل کے دو بیل ہوتے ہیں کہ ساتھ ساتھ قدم اٹھاتے ہیں۔ عین اس طرح سے ، جو شخص محض عقل پر انحصار کرتا ہے وہ ایک ٹیپ رکارڈر سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا ۔ جو صرف جذبے کا دھنی ہے وہ ایک آتش فشاں پہاڑ ہے ۔ 
ذہن قابلِ عمل معلومات حاصل کرتا ہے ، جذبہ ان کو عمل میں ڈھالتا ہے ۔ جو کچھ آپ اس وقت سن رہے ہیں وہ انفارمیشن ہے ۔ معلومات ہے ۔ عقل ہے ۔ جب آپ اس کو عمل میں لائیں گے تو وہ جذبہ ہوگا ۔ 

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 552