یا وُدُودُ

میں نے اپنی خالہ کو کافی پریشان دیکھا ، کیونکہ میرے خالو کی زندگی میں کچھ اور ہی طرح کا ٹیڑھا پن پیدا ہو رہا تھا۔ اور وہ کچھ اور طرح سے ، اور کچھ اور لوگوں میں ، پاپولر ہو رہے تھے ۔ اور جب خاوند میں ذرا سی ٹیڑھ پیدا ہو جائے تو بیوی کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔  میری  خالہ پوچھتی تھیں کہ کس طرح سے ہو کہ  اکرام خان صاحب (میرے خالو ) جو ہیں وہ راستے پر آجائیں ، اور میری محبت میں مبتلا رہیں ، اور میرا گھر آباد رہے ۔  تو اس وقت مجھے یاد ہے ، کسی نے ان کو بتایا تھا ، میں سمجھتا ہوں آج بھی یہ ذکر بڑا کار آمد ہوگا ، خاص طور پر خواتین کے لیے  کہ جب گھر میں اس طرح کی الجھنیں ہوں تو کیا ، کیا جانا چاہیے ۔ تو انہیں کسی نے بتایا تھا کہ  آپ ایک ہزار مرتبہ " یا ودود " کا ورد کر کے اپنے خاوند کو کھانے پر دم کر کے کھلائیں ، اور آپ بھی بیٹھ کر کھائیں ۔  اس سے محبت اور یگانگت بڑھتی ہے ۔  اس سے آپ کا بھی فائدہ ہوگا ۔ اللہ کا ذکر بھی ہوگا ، بے چینی بھی کم ہوگی ،  جو ہمارے ہاں بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔  میں اپنی خالہ کو دیکھتا تھا کہ وہ بہت پریشان تھیں ، لیکن اللہ کے فضل سے، اور اس رخ پر استقامت اختیار کرنے سے ، ان کی یہ الجھن دور ہو گئی۔ اور میرے خالو جو تھے وہ پہلے والے خالو بن گئے ۔ 

 اشفاق احمد  زاویہ  تائی کریم بیبی صفحہ 189