نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

یا وُدُودُ

میں نے اپنی خالہ کو کافی پریشان دیکھا ، کیونکہ میرے خالو کی زندگی میں کچھ اور ہی طرح کا ٹیڑھا پن پیدا ہو رہا تھا۔ اور وہ کچھ اور طرح سے ، اور کچھ اور لوگوں میں ، پاپولر ہو رہے تھے ۔ اور جب خاوند میں ذرا سی ٹیڑھ پیدا ہو جائے تو بیوی کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔  میری  خالہ پوچھتی تھیں کہ کس طرح سے ہو کہ  اکرام خان صاحب (میرے خالو ) جو ہیں وہ راستے پر آجائیں ، اور میری محبت میں مبتلا رہیں ، اور میرا گھر آباد رہے ۔  تو اس وقت مجھے یاد ہے ، کسی نے ان کو بتایا تھا ، میں سمجھتا ہوں آج بھی یہ ذکر بڑا کار آمد ہوگا ، خاص طور پر خواتین کے لیے  کہ جب گھر میں اس طرح کی الجھنیں ہوں تو کیا ، کیا جانا چاہیے ۔ تو انہیں کسی نے بتایا تھا کہ  آپ ایک ہزار مرتبہ " یا ودود " کا ورد کر کے اپنے خاوند کو کھانے پر دم کر کے کھلائیں ، اور آپ بھی بیٹھ کر کھائیں ۔  اس سے محبت اور یگانگت بڑھتی ہے ۔  اس سے آپ کا بھی فائدہ ہوگا ۔ اللہ کا ذکر بھی ہوگا ، بے چینی بھی کم ہوگی ،  جو ہمارے ہاں بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔  میں اپنی خالہ کو دیکھتا تھا کہ وہ بہت پریشان تھیں ، لیکن اللہ کے فضل سے، اور اس رخ پر استقامت اختیار کرنے سے ، ان کی یہ الجھن دور ہو گئی۔ اور میرے خالو جو تھے وہ پہلے والے خالو بن گئے ۔ 

 اشفاق احمد  زاویہ  تائی کریم بیبی صفحہ 189

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…