سیدھا راستہ

دکھا ہم کو سیدھا راستہ ۔ راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے اپنا کرم کیا ۔  صراطِ مستقیم کے لوگ سیدھی راہ پر چلتے ہیں ۔کاش میں ان کے نقوشِ پا پر چل سکتا ۔ حضرت بلالؓ چلے جا رہے ہیں ، میری آرزو ہے میں ان کا غلام ہوتا۔ ان کا  بکسہ اور ٹوکری اور جوتے میرے ہاتھ میں ہوتے اور میں اس راہ پر چلتا رہتا جس پر وہ چلے جا رہے ہیں ۔ میں ان کے گھر کا مالی ہوتا ۔ اندر سے مجھے حکم ملتا اور میں سودا سلف وغیرہ خرید کر لایا کرتا ۔ واپس آتا جھڑکیاں کھاتا ، چاہے ان کے دوسرے رشتیدار مجھ پر سختی کرتے لیکن مجھے اس تعلق سے خوشی ہوتی کہ میں ان کا ملازم ہوتا ۔ وہ حضورﷺ سے مل کر آتے میں ان کو دیکھ لیا کرتا ، اتنی ہی میری حیثیت ہوتی ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 463