دل

اس وقت ہم عذاب میں ہیں ، ساری دنیا عذاب میں ہے ۔ لیکن اس کی وجہ کیا ہے ؟ کارن کیا ہے ؟ مگر اس وجہ کو ڈھونڈھنے کے لیے  دور جانے کی ضرورت نہیں ۔ دماغ بالکل ٹھیک ہے اور اپنی جگہ چوکس ہے ۔ فقط دل گھاٹے میں آگیا ہے  اور اپنے مقام سے ہل گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آگہی  اور جانکاری کسی علم سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ تجربے سے ملتی ہے ۔ وہ آنکھیں جو زندگی کی راہوں کو روشن کرتی ہیں وہ دماغ کی آنکھیں نہیں ہوتیں بلکہ دل کی آنکھیں ہوتی ہیں ۔ اگر دل اندھا ہے تو زندگی کی راہ تاریک ہی رہے گی   اور ساری عمر تاریکی میں گذر جائے گی۔ 

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 607