نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بلونگڑے

آپ نوجوان ہیں آپ نے گاؤں میں بڈھوں بابوں کو دیکھا ہوگا وہ صبح سویرے کھیس کی بکل (موٹی چادر اوڑھ کر) باہر دیوار کے ساتھ لگے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ اور جب ان کا کوئی پوتا پوتی پاس سے گذرتے ہیں تو جھپٹ کر پکڑ لیتے ہیں ، اور گود میں بٹھا لیتے ہیں ، اور کہتے ہیں کہ  تیری ماں کو تو کچھ عقل ہی نہیں ہے ۔ شکل دیکھی ہی اپنی ، منہ بھی نہیں دھویا ۔ اور وہ اپنے اس کھیس کو تھوک لگا لگا کر پوتے یا پوتی کا چہرہ صاف کرتے رہتے ہیں جس طرح بلی اپنی بلونگڑے کو چاٹ کر خوبصورت بنا دیتی ہے ۔ وہ دادا بھی اپنے پوتے یا پوتی کو خوبصورت بنا دیتا ہے ۔ ایسے ہی جب آپ خدا کی حضوری میں یا اس کی جھولی میں چلے جاتے ہیں اور پکار کر کہتے ہیں  " مجھے آپ ہی عطا کرو ، میں تو اس قابل نہیں ہوں ۔ میں اپنی خود صفائی نہیں کر سکتا " ۔ تو پھر یقیناًخدا کی خاص توجہ ملتی ہے ۔ 

اشفاق احمد زاویہ 3  ڈبو اور کالو  صفحہ 139 

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15