نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

نفسیات

ایک اور صاحب جو کہ مرد اور عورت تھے ان کو میں  " گریٹ " کر کے ان کے ساتھ چلا ، تو انہوں نے کہا  میڈم بہت خوش تھیں ۔ سب کو بتایا تھا کہ ہمارا ایک معزز مہمان آ رہا ہے ۔ میں آگے چلا گیا جا کر ایک بڑے حال میں ، انہوں نے مجھے اس خاتون نے اس مرد نے بٹھا دیا ۔ ایک لمبی سی میز تھی کالی سیاہ رنگ کی اور اس کے اوپر میں اکیلا بیٹھا تھا ۔ تو انہوں نے کہا میڈم کو ہم نے اناؤنس کر دیا ہے وہ آتی ہونگی۔ میں نے کہا ، بہت خوشی کی بات ہے۔ انہوں نے کہا، وہ معذرت کر رہی ہیں تھوڑا سا آپ کو انتظار کرنا پڑے گا۔ اب بیٹھے بیٹھے مجھ کو مشکل سے چار،پانچ منٹ ہوئے ہونگے اور میں تھوڑا سا بور بھی ہو رہا تھا۔ وہاں سیڑھیاں تھیں آٹھ دس وہاں سے ٹپ ٹپ کرتا ہوا ایک لڑکا جس نے نیلی نیکر پہنی ہوئی، کالے سیاہ بوٹ اور کتنے سارے بٹنوں والی ایک جیکٹ سی پہنی ہوئی وہ نیچے اترا۔ لڑکا کوئی سات آٹھ سال کا تھا۔ نیچے اترا۔ کھٹ کھٹ کر کے مجھ تک پہنچا۔ میں نے مسکرا کر کہا، بنجو جی۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ اور سیدھا میرے پاس آ کر کھڑا ہو کے غور سے میری شکل دیکھنے لگا۔ اب میں بڑا ایمپریس ہو رہا تھا۔ میں نے اس کو کہا، ہاؤ آر یو ؟ یو بلانگس ٹو اے رچ کلاس۔ اس نے میری بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ پھر اس نے کہنی رکھ کے میز کے اوپر، جہاں میں تھا، ایسے میری شکل دیکھی۔ اب ایک آدمی کا چہرہ اتنا قریب ہو، اس اینگل پر ہو، بڑی پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ اُس زمانے میں، میں نے تھوڑی تھوڑی مونچھیں رکھی ہوئی تھیں۔ ایک آرٹسٹ تھا ڈالی، وہ اپنی مونچھوں کو موم لگا کے ذرا اونچی رکھتا تھا۔ میں نے ڈالی کے فیشن میں مونچھیں اوپر کی تھیں۔ تو جب اس نے چہرہ قریب کیا تو وہ میرے بہت نزدیک آگیا۔ سیدھے کھڑے ہو کے اس نے میری ایک مونچھ کو پکڑا اور زور سے کھینچا۔ میرا ہونٹ سارا اوپر کو کھنچ گیا۔ اور دوسرے ہاتھ سے اس نے ایک چماٹا دیا  میرے، اتنے زور کا کہ میرا یہ سارا ہونٹ نیچے گر گیا۔ میں کیا کر سکتا تھا۔ ایک ملازم آگیا اور مجھے آ کے کہنے لگا، یہ رسیلینی کا بڑا بیٹا ہے، اور میڈم کا بڑا لاڈلا بچہ ہے۔ میں نے کہا، ہاں ماشاء اللہ بہت پیارا ہے۔ تھپڑ مار کے زور سے وہ بھاگ گیا، کہیں کھیلنے۔ پتا نہیں کہاں چلا گیا۔ میں نے کہا یااللہ جتنی خوشی خوشی میں آیا تھا اور جتنا میرا دبدبہ تھا، یہ کیا ہوا میرے ساتھ۔ خیر رنج تو ہوا، آج تک ہے۔ یہ ہو کیا گیا میرے ساتھ۔ وہ چلا گیا اور میں بیٹھا رہا، اتنے میں میڈم آ گئی اور معذرت کرنے لگی۔ مجھے کچھ کام تھا۔ میں نے ابھی رسیلینی کو فون کیا ہے، اس نے کہا ہے میرا آخری شاٹ رہ گیا ہے، آئی ہوپ بالکل ٹھیک ہو جائے گا، جب تک ہم بیٹھ کے باتیں کریں گے۔ کہنے لگی   " وڈ یو لائیک آؤٹ سائیڈ " میں نے کہا، نہیں اندر ہی ٹھیک ہے۔ اندر میری کافی مرمت ہو گئی ہے۔ میں دوبارہ باہر جا کے پھر کسی کے سامنے پیش ہونگا۔  تو بیٹھ کے باتیں کرنے لگی۔ پاکستان کے بارے میں اس کو اتنا معلوم تھا کہ چھوٹا  سا ملک ہے۔ دو ڈھائی سال کا۔ ابھی بنا ہے۔ میں نے کہا، ہاں ابھی بنا ہے ۔ اس کے بارے میں کچھ تفصیلات پوچھتی رہی ۔ اس نے کھانے کا پوچھا تو میں نے کہا ، آپ کے شوہر آئیں گے ، ان کے ساتھ کھانا کھائیں گے۔ پھر وہ معذرت کر کے چلی گئی۔ اس کا ایک ٹیلیفون آگیا تھا۔ میڈم کو ٹیلیفون بہت آتے تھے۔ چلی گئی تو اب میں بہت کانشس ہو کے بیٹھا ہوا ہوں۔ یا اللہ وہ ظالم کا بچہ پھر نہ آجائے۔ ایک ڈر ہوتا ہے نا آدمی کو کہ ایک گھوم رہا ہے آفت کا پر کالہ۔ بعد میں پتہ چلا کہ رسیلینی نے کہا، آپ کھانا کھائیں، میں آپ کو  " جوائن " نہیں کر سکوں گا۔ کیونکہ  فلم کا سین " ڈلے "  ہو گیا۔ میرا شاٹ تیار نہیں ہوا۔ تو میں پھر کبھی اشفاق سے ملوں گا۔ 
پھر  میڈم نے کہا " وڈ یو لائیک "  میں نے کہا جیسا کہیں ٹھیک ہے۔ وہ ڈونگے لے کر آنے لگے۔ ان کے ملازم با وردی، دستانے پہنے ہوئے چیزیں لا رہے ہیں۔ میری جان پر بنی ہوئی تھی کہ وہ چھری کانٹے سے کھاتے تھے۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ کیسے کھانا ہے۔  چیزیں آ گئیں۔ اتنے میں جو وہ  آفت کا پر کالہ سا تھا اس کے بجائے پھر ایک اور نکل آیا۔ چار سال کا چھوٹا پر کالہ سا۔ تو میڈم نے کہا یہ میرا چھوٹا بچہ ہے۔  دو ان کے بیٹے تھے۔  تو میں نے کہا ہیلو، ہائے  ویری کیوٹ۔ جیسے کہتے ہیں۔
تو وہ چھوٹا آگیا۔ اس نے کرسی میری اس طرف ڈالی اور میرے قریب بیٹھ گیا۔ اور میرے چہرے کو غور سے دیکھتا جا رہا ہے  کہ یہ کیا چیز ہے۔ عجیب و غریب سی۔ کیسے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ کس قسم کا آدمی ہے۔ باوجود اس کے کہ دونوں بچے بہت اچھی اٹالین بولتے تھے۔ میں بھی ٹھیک ٹھاک بولتا تھا۔ باتیں ہم کرتے رہے۔ جب کھانا لگ گیا  بڑے طلائی اور زریں برتنوں میں۔ تو ہم نے شوربہ ڈال دیا۔ تو وہ جو چھوٹا بچہ تھا، دوسرا بڑا ادھر بیٹھا تھا، دوسرا بھی آگیا۔ کھانا تو کھانا تھا نا ساتھ۔ تو چھوٹے نے کیا کیا، دہی کا ایک پیالہ اس کو لے کر میرے شوربے میں ڈال دیا اور چمچہ لے کر اس کو ہلا دیا اور اپنی چیز کچھ کھانے لگا۔ تو میں نے کہا، کوئی بات نہیں۔  شوربے میں دہی پڑا  ہے اس میں کیا خرابی ہو سکتی ہے۔ تو میں نے ایک آدھ چمچ لیا تو میڈم نے کہا  " آئی ایم ویری سوری " بچے نے " مسبیھیو "  کیا آپ کے ساتھ۔ ہم بچوں کو ٹوکتے نہیں ہیں۔ ہم ان کو نفسیاتی طریقوں سے پال رہے ہیں۔ کیونکہ بچوں کو اگر ٹوکا جائے، ان کو منع کیا جائے تو ان کی شخصیت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ یہ نئی نئی تحقیق آئی ہے۔ ہم سارے لوگ یورپ کے اس تحقیق پر چل رہے ہیں۔ ہمارے جیسے پڑھے لکھے والدین اس معاملے میں بہت محتاط ہیں۔ ہم بچوں کو کچھ نہیں کہتے۔ ملازم سے کہا کہ یہ پلیٹ ہٹا دو۔ اس کی جگہ اس نے نئی لا کر رکھ دی تو میں نے شوربہ ڈالا تو اس کے بڑے بیٹے نے کیچپ کی ساری بوتل ۔ ۔ ۔ ۔  پلیٹ میں انڈیل دی۔ تو میں نے کہا، میں کھاتا نہیں ہوں۔ میں ذرا سی چکن اور آلو گول کٹے ہوئے، وہ لے لیتا ہوں۔  وہ ڈال دیے تو جو بڑا بیٹا تھا، اس نے دیکھا کہ یہ بڑے شوق سے کھانے والا ہے۔ ابھی ایک نوالہ لیا تھا کہ اس نے اپنا نوالہ چڑھایا فورک کے اوپر اور یوں تلکا کے ٹھک کر کے جیسے غلیل نہیں ہوتی، میری ناک کے اوپر، میں بہت اچھے کپڑے پہن کے گیا تھا، ٹھنا ٹھن مرچیں ڈال کے آلو وہ گیا۔ 
اس نے کہا، میں پھر معذرت چاہتی ہوں۔ اگر ہم ان کو کچھ کہیں گے، منع کریں گے تو ان کی شخصیت پر اثر پڑے گا۔ ہم نہیں چاہتے کہ بچے کی شخصیت خراب ہو۔ یوں آگے چل کر وہ بہترین انسان بنتا ہے۔ تو میں نے کہا، ہاں کوئی بات نہیں۔  پھر میں نے ہاتھ ایسے کیے، جو بھی آدمی پروٹیکشن کر سکتا ہے لیکن ہو نہیں سکی۔ ہاتھ ایسے کیا تو چھوٹے نے کھڑے ہو کر میرے پاؤں کے اوپر اپنا پاؤں بڑے زور سے مارا۔  اس کے نیچے لوہے کے وہ لگے ہوئے تھے نیلز میری چیخ نکلی خوفناک قسم کی۔ میں نے سوچا کس لئے یہاں آگیا۔ دفع کرو۔ لعنت بھیجو، یہ ایکٹروں کے گھر ہوتے ہیں۔ میں کہاں پھنس گیا۔ اتنے میں رسیلینی کا ٹیلیفون آگیا  تو ملازم نے آکر اعلان کیا۔ اس نے کپڑا رکھا ٹِک ٹِک کرتی اوپر چلی گئی۔ اب میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں، اوپر جا رہی ہے کہ اب جا کے ٹیلیفون سننے لگ گئی ہے۔ جب وہ ٹیلیفون سن رہی ہوگی، بچے دونوں تاک میں بیٹھے تھے۔ میں نے گالی دی۔ کہ سور میں تمہارا گاٹا اتار دوں گا کتے۔ اس بیچارے نے کبھی گالی نہیں سنی تھی۔ اتنی گندی گالیاں جتنی مجھے آتی تھیں، جو کہیں بھی نہیں آ سکتیں تو وہ کانپ گیا۔ اس نے کبھی زندگی میں ایسا دیکھا نہیں تھا۔ وہ بیچارے ڈر گئے اور رنگ فق ہو گیا۔ میں نے کہا، اگر تم نے آواز نکالی تو کوئی اٹالین نہیں، کوئی انگریزی
نہیں، خالص پنجابی۔  " جے توں فیر ایہہ کیتا نا گل وڈھ کے تھالی وچ رکھ دیاں گا "۔ اور اب چہرے سے پتہ چل گیا اور دہشت آگئی ان پر۔ اتنے میں وہ اپنا فون سن کے واپس آگئی اور انہوں نے کہا، رسیلینی معذرت کر رہے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ میں کوشش کر رہا ہوں  اگر موقع مل گیا تو میں "جوائن " کروں گا۔ اشفاق کو جانے نہ دینا۔ میں نے کہا بڑی مہربانی۔ پھر وہ کھانا کھانے لگی۔ دونوں بچے بھی۔ 
ہم بھی کھاتے رہے تو کھانے کے دوران جب ہم اختتام پر پہنچے تو میڈم نے کہا پروفیسر! دیکھا آپ نے۔ اگر بچوں کو ڈانٹا نہ جائے تو شخصیت کیسی ہوتی ہے۔ پر سکون ہوتی ہے۔ کس شرافت سے کھانا کھا رہے ہیں۔  میں نے کہا، ہاں بالکل ٹھیک ہے۔ نفسیات کا اچھا اصول ہے ۔ 
سائیکولوجسٹ کہتے ہیں  چونکہ بچے میں  " ایگریشن " ہوتا ہے تو وہ اس کو نکالنے کے لیے تکیہ لے کر ڈنڈے کے ساتھ  ستون کے ساتھ باندھ کر پنچ  مارو۔ کسی پر لکھ دو " اماں جی " کسی پر لکھ دو  " ابا جی  "۔  اماں پر غصہ آئے تو اماں پر ابا پر غصہ آئے تو ابا پر ٹھا ٹھا۔ اور اس طرح سے اگریشن نکل جاتا ہے۔ یہ ان کا خیال ہے ۔
اور جو طریقہ اب خاص طور پر اب برٹش سائیکولوجی میں ہے، وہ یہ کہتے ہیں ڈانٹنا  ڈپٹنا اور بچے کو اس کو مقام بتانا ضروری ہے۔

 اشفاق احمد  زاویہ بچوں کی نفسیات صفحہ 19 ، 20 

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

معافی اور درگزر

معافی اور درگزر، یہ ایک پھول کی مانند ہیں۔ اس کے باعث انسان ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں اور یہ "معافی" انسانوں کے مابین Connectivity کا کام دیتی ہے۔ جو لوگ معافی مانگنے سے محروم ہو جاتے ہیں وہ انسان کے درمیان رابطے اور تعلق کے پل کو توڑ دیتے ہیں اور ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے کہ ان کو خود کسی وجہ سے آدمیوں اور انسانوں کے پاس جانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن وہ پل ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔  اگر ہم ایک انسان سے کوئی زیادتی کرتے ہیں یا انسان کا کوئی گناہ کرتے ہیں اور پھر وہ انسان خدانخواستہ فوت ہو جاتا ہے یا برطانیہ یا کینیڈا جا کر آباد ہو جاتا ہے تو پھر ہمیں اس انسان کے پاس جا کر معافی مانگنے میں بڑی مشکل درپیش ہوتی ہے لیکن اگر ہم خدا کے گناہگار ہوں اور ہمارا ضمیر اور دل ہمیں کہے کہ "یار تو نے یہ بہت بڑا گناہ کیا تجھے اپنے رب سے معافی مانگنی چاہیے"۔ تو اس صورت میں سب سے بڑی آسانی یہ ہوتی ہے کہ ہمیں اپنے خدا کو کہیں جا کر ڈھونڈنا نہیں پڑتا، تلاش نہیں کرنا پڑتا کیونکہ وہ تو ہر جگہ موجود ہے ۔  اسی لئے ہمارے بابے اس بات پر زور دیتے ہیں اور ہمارے بابا جی اکثر و بیشتر یہ کہا…

دال میں کالا۔۔۔

اصل میں بات یہ ہے کہ جب کسی نے یہ کہا کہ یہاں غلط ہے۔ اس جگہ دال میں کچھ کالا ہے تو آپ نے فوراً اسے تسلیم کر لیا - اس کے آگے سر جھکا دیا- جب کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ اچھا ہے۔ یہ خوب ہے۔ یہ نیکی ہے۔ تو تم رک جاتے ہو - ماننے سے انکار کر دیتے ہو - خاموش ہو جاتے ہو- برائی پر تم کو پورا یقین ہے - سو فیصد اعتماد ہے- شیطان پر اور ابلیس پر پورا یقین ہے - لیکن خدا پر نہیں۔۔۔۔ ایک محاورہ ہے کہ، 'یہ اتنی اچھی بات ہے کہ سچ ہو ہی نہیں سکتی'- یہ کبھی نہیں ہوتا کہ کوئی کہے کہ یہ اتنی بری بات ہے کہ سچ ہو ہی نہیں سکتی- بہت بری اور بہت خراب بات کبھی بھی غلط نہیں لگتی - ہمیشہ ٹھیک ہی لگتی ہے- تم نے انسانیت پر اس قدر بے اعتباری شروع کر دی ہے، اس قدر بے اعتمادی کا اظہار کر دیا ہے کہ اب تم کو انسانوں کی طرف سے اچھی خبر ٹھیک ہی نہیں لگتی۔ اگر کوئی آکرآپ سے یہ کہے کہ فلاں نے معراج انسانیت حاصل کر لی ہے اور جلوہ حقیقی سے روشناس ہو گیا ہے ، تو تم کبھی یقین نہیں کرو گے۔ سنو گے اور کہو گے یہ سب افسانہ ہے- گپ ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص کو جلوہ حقیقی نظر آجائے جب کہ ہم کو کبھی نظر نہیں آیا- جس چیز کا تجرب…

سکون کی تلاش

مجھے معلوم ہے آپ کو مسرت اور سکون کی تلاش ہے لیکن سکون تلاش سے کس طرح مل سکتا ہے - سکون اور آسانی تو صرف ان کو ملتی ہے جو آسانیاں تقسیم کرتے ہیں، جو مسرتیں بکھیرتے پھرتے ہیں  اگر آپ کو سکون کی تلاش ہے تو لوگوں میں سکون تقسیم کرو تمہارے بورے بھرنے لگیں گے۔ طلب بند کردو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ دولت صرف دینے سے بڑھتی ہے- احمقوں کی طرح بکھیرنے پھرنے سے اس میں اضافہ ہوتا ہے۔
اللہ سائیں کے طریق نرالے ہیں - سکون کے دروازے پر بھکاری کی طرح کبھی نہ جانا ، بادشاہ کی طرح جانا ، جھومتے جھامتے ، دیتے بکھیرتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم کو معلوم نہیں کہ بھکاریوں پر ہر دروازہ بند ہو جاتا ہے اور بھکاری کون ہوتا ہے وہ جو مانگے ، جو صدا دے ، جو تقاضا کر ے ، اور شہنشاہ کون ہوتا ہے جو دے عطا کرے ، لٹاتا جائے - پس جس راہ سے بھی گذرو بادشاہوں کی طرح گذرو ، شہنشاہوں کی طرح گذرو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیتے جاؤ دیتے جاؤ - غرض و غایت کے بغیر - شرط شرائط کے بغیر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اشفاق احمد زاویہ 3 محبت کی حقیقت صفحہ 242


محبت اور انا؟

محبت آزادی ہے۔ مکمل آزادی۔ حتٰی کہ محبت کے پھندے بھی آزادی ہیں جو شخص بھی اپنے آپ کو محبت کی ڈوری سے باندھ کر محبت کا اسیر ہو جاتا ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جاتا ہے۔ اس لیے میں کہا کرتا ہوں آزادی کی تلاش میں مارے مارے نہ پھرو۔ محبت تلاش نہ کرو۔۔۔۔ آزادی کی تلاش بیسیوں مرتبہ انسان کو انا کے ساتھ باندھ کر اسے نفس کے بندی خانے میں ڈال دیتی ہے۔ محبت کا پہلا قدم اٹھتا ہی اس وقت ہے جب وجود کے اندر سے انا کا بوریا بستر گول ہو جاتا ہے۔ محبت کی تلاش انا کی موت ہے۔ انا کی موت مکمل آزادی ہے۔


انا دنیا پر قبضہ جمانے کا پروگرام بناتی ہے۔ یہ موت سے غایت درجہ خوف کھاتی ہے۔ اس لیے زندگی پر پورا پورا قبضہ حاصل کرنے کا پلان وضع کرتی ہے۔ انا دنیاوی اشیاء کے اندر پرورش پاتی ہے اور مزید زندہ رہنے کے لیے روحانی برتری میں نشوونما حاصل کرنے لگتی ہے۔ اس دنیا کی غلامی اور چاکری کی ڈور انا کے ساتھ بندھی ہے۔ انا خود غلامی ہے، خود محکومی ہے۔ انا کو آزاد کرانا اور اسے غلامی سے نجات دلانا ہمارا کام نہیں۔ ہمارا کام تو خود کو انا کی غلامی اور محکومی سے آزاد کرانا ہے۔ یاد رکھئے انا کبھی بھی اپنایت سے، قربانی سے…

ضمیر

قدرت نے انسان کو ایک ایسی بڑی نعمت سے نوازا ہے جسے ہم ضمیر کہتے ہیں ۔ جب بھی ہم سے کوئی اچھائی یا برائی سرزد ہو تو یہ اپنے خصوصی سگنل جاری کرتا ہے ۔ ان سگنلز میں کبھی شرمندگی کا احساس نمایاں ہوتا ہے تو کبھی کبھی ضمیر سے آپ کو "ویری گڈ " کی آواز آتی ہے ۔ آپ کسی یتیم کے سر پر دستِ شفقت رکھتے ہیں یا کسی نابینا کو اپنا ضروری کام چھوڑ کر سڑک پار کرواتے ہیں تو آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے ضمیر نے آپ کو شاباش دی ہے ۔ پیار سے تھپکی دی ہے ۔ انسان خود میں عجیب طرح کی تازگی اور انرجی محسوس کرتا ہے۔ جب ہم اپنے کسی نوکر کو جھڑکیاں دیتے ہیں ، کسی فقیر کو کوستے ہیں یا کوئی بھی ایسا عمل کرتے ہیں جس کی ہمیں ممانعت کی گئی ہے تو یہ ضمیر تنگی محسوس کرتا ہے ۔ ایک ایسا سگنل بھیجتا ہے جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ شاید یہ کام کچھ درست نہیں ہوا۔