راستہ

اس تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ۔ کیونکہ اپنے تک پہنچنے کے لیے کسی راستے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ راستے تو دوسروں تک پہنچنے کے لیے ہوتے ہیں ۔ مسافت طے کرنے کے لیے ہوتے ہیں ۔ یہاں کوئی مسافت ہی نہیں ۔ وہ تو شہ رگ سے بھی نزدیک ہے ۔  میری شہ رگ سے ! اس لیے کہیں جانا نہیں ہوتا ۔ بس اُس کو یاد کرنا ہوتا ہے، یاد رکھنا ہوتا ہے ۔ اور کچھ کرنا ہی نہیں ، اس کو جاننا نہیں اس کو پانا ہے ۔ 

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 583