عزتِ نفس

انسان میں اپنی کمزوریاں اور اپنے اندر جو خامیاں ہوتی ہیں ، ان کو تسلیم نہیں کرتا ۔ دوسروں میں جو خوبی ہے وہ مجھ میں کیوں نہیں ، اسے یا تو حسد کہ سکتے ہیں یا انسان کی شخصی کمزوری کہ سکتے ہیں ۔ 
کچھ قدرتی کمزوریاں ہوتی ہیں ۔ کچھ لوگ قدرتی طور پر خوبصورت پیدا ہوتے ہیں ۔ وہ مارجن لے کر آتے ہیں ۔اور جس کے پاس مارجن نہیں ،  وہ کیا کرے ؟  صورت کو ایک معیار بنا دیا گیا ہے ۔ 
آدمی جتنا بڑا ہوتا جاتا ہے اتنا بڑا اس کا ظرف ہو جاتا ہے ۔ وہ چیزں کو برداشت بھی کر لیتا ہے ۔ سن بھی لیتا ہے۔  کنڈم بھی نہیں کرتا ۔ اگر ایسی صورتِ حال پیدا کی جائے کہ ہر آدمی کو عزتِ نفس ملے اس کو بڑا ہونے کا احساس دیا جائے تو پھر وہ اپنے خامیوں پہ قابو پا لے گا اور دوسروں کو کنڈم نہیں کرے گا ۔ 


اشفاق احمد زاویہ  بہروپ  صفحہ 13