غنڈہ

  میں کندھے پہ ڈانگ رکھ کہ حقیقتوں سے لڑتا رہتا ہوں ۔  مجھے حقیقتوں سے ڈیل کرنے کا طریقہ نہیں آتا ۔  میرے اندر کا غنڈہ لوگوں سے  اصولوں کے نام پر جگا ٹیکس وصول کرتا ہے ۔  وہ بار بار ایک ہی فقرہ دہراتا ہے کہ " میں اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا "۔ میرے اندر کے غنڈے کے پاس اپنے ہر عمل کے لیے ایک منطق ہوتی ہے ، ایک وجہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
لیکن یہ وجہ ہر مرتبہ آئیڈیلسٹک ہوتی ہے ۔ 

اشفاق احمد  بابا صاحبا  صفحہ  444