نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

February, 2013 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تفریح

بچو ! اب ہم میں سے کچھ لوگ ایسے پیدا ہو گئے ہیں کہ ان کے دل میں بابا بننے کی خواہش ہی نہیں ہے ۔ میری طبیعت پر اس  بات کا بھی بوجھ پڑا کہ ہمارے ہاں لوگوں کو غلط ایڈریس  بتانے کا رواج بھی  بڑھ رہا ہے ۔  اگر کوئی اجنبی شخص کسی سے کوئی ایڈریس پوچھے تو  جان بوجھ کر غلط بتا دیا جاتا ہے اور  یہ سب کسی غلط نظریے کے باعث نہیں کیا جاتا  بلکہ محض مذاق یا تفریح کے طور پر ہی کیا جاتا ہے ۔ یہ غلط بات ہے ۔ ہمیں اس بات کی تعلیم نہیں دی گئی ہے ۔ ہمیں حکم ہے کہ لوگوں کو درست راستے پر چلائیں ۔ بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھائیں ۔ لوگوں کو آسانیاں اور مدد دیں ۔ یہ ہمارا طرء امتیاز ہونا چاہیے ۔ اس طرح کی چھوٹی چھوٹی برائیاں بڑی بن جاتی ہیں ۔ اور یہ چھوٹی چھوٹی محبت کی جھرنیں محبت اور پیار کا ایک بڑا پر نالہ بن جائیں گی کہ اس کی چھینٹیں اور کرنیں ہماری سب کی زندگیوں کو تابناک بنا دیں گی ۔

اشفاق احمد زاویہ 3 قناعت پسندی صفحہ 210

روشنی

اگر کوئی شخص مجھے نہ جانے اور نہ پہچانے تو مجھے کوئی افسوس نہیں ، لیکن اگر میں خود کو نہ جانوں اور نہ پہچانوں تو مجھے  بہت افسوس ہوگا ۔اس دنیا میں تقریباً سبھی لوگ اپنے آپ کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے ۔ وہ اپنے آپ کو دوسروں کی نظر سے پہچانتے اور ان ہی کی نظر سے جانتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی تاریک سے تاریک  تر ہوتی چلی  جا رہی ہے ۔ تم اپنے ارد گرد کس طرح روشنی پھیلا سکتے ہو جب تم اپنے آپ کو ہی نہیں جانتے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3 علم فہم اور ہوش صفحہ291

اتفاق

مسلمانوں میں اتفاق کیسے ہو ؟َ  اتفاق ہوتا ہے دوسروں کو آرام و سکون پہنچانے سے ۔  اگر مسلمان اس بات کا خیال رکھیں کہ دوسروں کو نفع پہنچانا ہے تو سب متفق ہو جائیں گے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 457

مسٹر کلاؤ

اٹلی میں مسٹر کلاؤ  بڑا سخت قسم کا یہودی تھا ۔ اس کی کوئی تیرہ چودہ منزلہ عمارت تھی ۔ صبح جب میں یونیورسٹی جاتا تو وہ رات کی بارش کا پانی وائپر سے نکال رہا ہوتا اور فرش پر " ٹاکی " لگا رہا ہوتا تھا ۔ یا سڑک کے کنارے جو پٹڑی ہوتی ہے اسے صاف کر رہا ہوتا ۔ میں اس سے پوچھتا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں اتنے بڑے آدمی ہو کر ۔ اس نے کہا  یہ میرا کام ہے ۔ کام بڑا یا چھوٹا نہیں ہوتا ۔  میں نے کہا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اس نے کہا کی یہ انبیاء کی صفت ہے جو انبیاء کے دائرے میں داخل ہونا چاہتا ہے وہ چھوٹے کام ضرور کرے ۔  حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بکریاں چرائیں تھیں اور ہم یہودیوں میں بکریاں چرانا  اور اس سے متعلقہ نیچے لیول کا کام موجود ہے ۔ اس نے کہا کہ آپ کے نبی ﷺ اپنا جوتا خود گانٹھتے تھے ۔ قمیض کا پیوند یا ٹانکا خود لگاتے تھے کپڑے دھو لیتے تھے ، راستے سے " جھاڑ جھنکار " صاف کر دیتے تھے ، تم کرتے ہو ؟ میں کہنے لگا مجھے تو ٹانکا لگانا نہیں آتا مجھے سکھایا  نہیں گیا ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 2  چھوٹا کام صفحہ 29

ماں

ماں خدا کی  نعمت ہے اور اس کے پیار کا انداز سب سے الگ اور نرالا ہوتا ہے ۔ بچپن میں ایک بار بادوباراں کا سخت طوفان تھا اور جب اس میں بجلی شدت کے ساتھ کڑکی تو میں خوفزدہ ہو گیا ۔ ڈر کے مارے تھر تھر کانپ رہا تھا ۔ میری ماں نے میرے اوپر کمبل ڈالا اور مجھے گود میں بٹھا لیا تو محسوس ہوا جیسے میں امان میں آگیا ہوں ۔   میں نے کہا اماں ! اتنی بارش کیوں ہو رہی ہے ؟ اس نے کہا بیٹا ! پودے پیاسے ہیں ۔ اللہ نے انہیں پانی پلانا ہے اور اسی بندوبست کے تحت بارش ہو رہی ہے ۔  میں نے کہا ٹھیک ہے پانی تو پلانا ہے مگر یہ بجلی بار بار کیوں چمکتی ہے ؟ وہ کہنے لگیں روشنی کر کے پودوں کو پانی پلایا جائے گا ۔ اندھیرے میں تو کسی کی منہ میں کسی کی ناک میں پانی چلا جائے گا ۔ اس لیے بجلی کی کڑک چمک ضروری ہے ۔  میں ماں کے سینے کے ساتھ لگ کر سو گیا ۔ پھر مجھے پتہ نہیں چلا کہ بجلی کس قدر چمکتی رہی یا نہیں ۔ یہ ایک بالکل چھوٹا سا واقعہ ہے اور اس کے اندر پوری دنیا پوشیدہ ہے۔ یہ ماں کا فعل تھا جو ایک چھوٹے سے بچے کے لیے ، جو خوفزدہ ہو گیا ہے اسے خوف سے بچانے کے لیے پودوں کو پانی پلانے کی مثال دیتی ہے ۔ یہ اس کی ایک اپروچ …

بورڈنگ کارڈ

اپنے دکھ اور کوتاہیاں دور کرنے کے لیے آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم تسلیم کرنے والوں میں ماننے والوں میں شامل ہو جائیں ۔ اور جس طرح خدا وند تعالیٰ کہتا ہے کہ دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ ۔ میرا بڑا بیٹا کہتا ہے کہ ابو دین میں پورے کے پورے کیسے داخل ہو جائیں  تو میں اس کو کہتا ہوں کہ جس طرح بورڈنگ کارڈ لے کر ایئرپورٹ میں داخل ہو جاتے ہیں اور پھر جہاز میں بیٹھ کر ہم بے فکر ہو جاتے ہیں کہ یہ درست سمت میں ہی جائے گا ۔ اور ہمیں اس بات کی فکر لاحق نہیں ہوتی کہ  جہاز کس طرف کو اڑ رہا ہے ۔ کون اڑا رہا ہے بلکہ آپ آرام سے سیٹ پر بیٹھ جاتے ہیں آپ کو کوئی فکر فاقہ نہیں ہوتا  ہے ۔  آپ کا اپنے دین کا بورڈنگ کارڈ اپنے یقین کا بورڈنگ کارڈ اپنے پاس ہونا چاہیے تو پھر ہی خوشیوں میں اور آسانیوں میں رہیں گے وگرنہ ہم دکھوں اور کشمکش کے اندر رہیں گے ۔ اور تسلیم نہ کرنے والا شخص نہ تو روحانیت میں داخل ہو سکتا ہے اور نہ ہی سائنس میں داخل ہو سکتا ہے ۔  جو چاند کی سطح پر اترے تھے  جب انہوں نے زمین کے حکم کے مطابق ورما چلایا تو اس نے کہا ورما ایک حد سے نیچے نہیں جا رہا  ، جگہ پتھریلی ہے ۔ لیکن  نیچے سے حکم اوپر گی…

ظلم اور صبر

ثروت : حضور ! خاکم بدہن  ۔ ۔ ۔ ۔ ظالم کی رسی کیوں دراز ہے اس کو غفورالرحیم  سے  ظلم کرنے کی استعداد اور مہلت اس قدر کیوں ملتی ہے ؟   شاہ :  اس کی دو وجوہات ہیں ثروت بیگ ۔ ایک وجہ تو یہ کہ اس پر لوٹ آنے کی مہلت خدائے بزرگ و برتر کم نہیں کرنا چاہتا ۔  کبھی تم نے اس ماں کو دیکھا ہے ثروت بیگ جو بچے کو مکتب میں لاتی ہے ۔ بچہ بھاگتا ہے ، بدکتا ہے ، چوری نکل جاتا ہے مکتب سے ۔ ماں لالچ دیتی ہے کبھی سکے کا ۔ کبھی کھانے پینے کی چیزوں کا ۔  کبھی کبھی مکتب میں لانے کے لیے ظلم کا بھی لالچ دینا پڑتا ہے ۔ کیونکہ دنیاوی آدمی کو بس اسی چیز کا شوق ہوتا ہے ۔  ثروت : اور دوسری وجہ شاہ علم و دین ۔  شاہ :  دوسری وجہ اسباب کی ہے ظالم آدمی در اصل ایک آلہ ہے اسباب کے ہاتھ میں ۔ وہ اللہ کے بندوں کو آزمانے کا سبب بنتا ہے ثروت بیگ ۔ اس کے بغیر صابر آدمی کی آزمائش کیوں کر ہوتی ۔ 
اشفاق احمد  حیرت کدہ  صفحہ 58

سوئی دھاگہ

بابا جی نے فرمایا کہ سوئی میں دھاگہ ڈالنا سیکھو ۔ اب یہ بڑا مشکل کام ہے ۔  میں کبھی ایک آنکھ بند کرتا اور کبھی دوسری آنکھ کانی کرتا ، لیکن اس میں دھاگہ نہیں ڈلتا تھا ۔  خیر ! میں نےان سے کہا کہ اچھا جی دھاگہ ڈال لیا اس کا فائدہ ؟  کہنے لگے اس کا یہ فائدہ ہے کہ اب تم کسی کا پھٹا ہوا کپڑا کسی کی  پھٹی ہوئی پگڑی سی سکتے ہو ۔ جب تک تمہیں لباس سینے کا فن نہیں آئے گا تم انسانوں کو کیسے سیئو گے ۔  تم تو ایسے ہی رہو گے ، جیسے لوگ تقریریں کرتے ہیں ۔  بندہ تو بندے کے ساتھ جڑے گا ہی نہیں ۔  یہ سوئی دھاگہ کا فن آنا چاہیے ۔ ہماری مائیں ، بہنیں ، بیبیاں جو لوگوں کو جوڑے رکھتی تھیں وہ یہ چھوٹے چھوٹے کاموں سے کرتیں تھیں ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 2   چھوٹا کام   صفحہ 30

خود کشی

اگر کسی لڑکی کی شادی زبردستی  اس کی مرضی کے بغیر ہو رہی ہے ، اور وہ رونا چاہتی ہے ، کسی مامے ، چاچے، دوست ، استاد ، پروفیسر کو بتانا چاہتی ہے کہ اسے یہ دکھ ہے لیکن وہ سارے کہتے  ہیں کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے ، دفع ہوجا ۔  اب وہ بیچاری خود کشی نہیں کرے گی تو اور کیا کرے گی ۔ جب زندگی اور آواز کا پنجرہ اتنا تنگ کر دیا جاتا ہے کہ وہ اس میں محبوس ہو جاتا ہے اور اس کا سانس گھٹنے لگتا ہے ، تو پھر وہ مرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ  3  دو بول محبت کے  صفحہ 52

قابلِ رشک

آپ کبھی فجر کی نماز کے بعد کسی ان پڑھ عام سے کپڑے پہنے کسی دیہاتی ، جسے وضو اور غسل کے فرائض سے بھی شاید پوری طرح واقفیت نہ ہو، وہ جب نماز کے بعد قرآن پاک پڑھنے کے لیے کھولے گا تو قرآن پاک کا غلاف کھولنے سے پہلے دو بار اسے آنکھوں سے لگائے گا اور چومے گا ۔ اس کی اس پاک کتاب  سے محبت اور عقیدت دیدنی ہوتی ہے ۔ وہ قرآن پاک میں لکھی عربی کی آیات کی معانی سے واقف نہیں ہوتا ۔ لیکن وہ جس محبت سے اسے پڑھ رہا ہوتا ہے وہ قابلِ رشک ہوتا ہے ۔

اشفاق احمد لچھے والا  زاویہ3 صفحہ 29

ترغیب

مرد کے اندر عورت کی ترغیب فطری طور پر موجود ہے ۔  یہ ترغیب فطری اور گہری ہے ۔ جب یہ ترغیب نیام سے نکل کر تلوار بنتی ہے  تو زندگی کی وادی میں ہزاروں عورتیں بے دریغ کچل دی جاتی ہیں ۔ اسی لیے چوری چھپے کی آشنائی کا حکم نہیں ہے ۔  یہ صرف عورت کا تحفظ ہے کہ اس ترغیب کے ہاتھوں وہ روندی نہ جائے ۔  نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم ہے ، عورت کی حفاظت کے لیے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حیا سے ، پردے سے  ، خدا کو تو کوئی فائدہ نہیں  پہنچتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مرد بھی بیزار ہوتا ہے حیا دار عورت سے ، لیکن عورت محفوظ رہتی ہے ۔  وہ قدم قدم پر مرد کے اندر چھپی ہوئی  ازلی ترغیب سے بچی رہتی ہے ۔ 
 اشفاق احمد من چلے کا سودا صفحہ 119

رزق حلال

ساری عمر دوہری عبادت کی جیون ! قلب سے بھی اور ہاتھ سے بھی ۔ اسی لیے تو کہتا ہوں عبادت کا حکم ہر وقت ہے ۔ پانچ وقت تو حاضری لگانی ہوتی ہے  باقی عبادت ، تو سارا دن چلتی ہے ۔  جیون : لیکن چاچا  ہمہ وقت کیسے ہو سکتا ہے اللہ کا ذکر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟  جب تو ہل چلاتا ہے ، عبادت کرتا ہے ۔ جب میں صراحی ، گلدان ، تھال میں گل بوٹے بناتا ہوں،عبادت ہی تو ہوتی ہے ۔  ہاتھوں سے رزق حلال کھانے اور کھلانے والا اور کیا کرتا ہے جیون بیٹا ! جب میری جہاں  آرا کشیدہ کرتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔  روٹی بناتی ہے وہ بھی تو عبادت ہی  کرتی ہے ۔ 
اشفاق احمد  من چلے کا سودا صفحہ 73

علم نافع

ایک بار ڈیرے پر ہم نے بابا جی سے پوچھا کہ سرکار انسان کو پناہ کہاں ملتی ہے ؟ تو فرمانے لگے ۔ ماں کی آغوش میں ۔  اگر وہ میسر نہ ہو تو والدین کی دعاؤں میں ۔ اگر وہ بھی بد قسمتی سے نہ ملے تو پھر علم میں ۔  وہ علم کتابی یا حساب الجبرے کا ہی نہیں ،  ایسا علم جس سے آپ کی ذات ، روح اور دوسروں کو فائدہ پہنچے ۔ وہ خدا کی مخلوق کے لئے زحمت نہ بنے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ  3 پناہ گاہیں صفحہ 34

گھن

ہمارے بابے کہا کرتے ہیں کہ باہر کے جسم کو بیماریوں سے بچانے کے لئے اپنے اندر کو بیماریوں سے مبرا کرنا چاہیے ۔  درخت جس کے اندر بیماری ہو اور اسے گھن لگا ہوا ہو اور اندر ہی اندر سے وہ کھوکھلا ہوتا جا رہا ہو ، اور ہم اس کی اصل بیماری کا علاج کرنے کے بجائے اسے باہر سے سپرے کرتے رہیں ۔ اسے روشنیاں یا بلب لگا دیں تو ہم اس سے درخت کی اندر کی بیماری کو نہیں روک سکتے ۔ وہ تب ہی ٹھیک ہوگا جب ہم اس کی جڑوں یا تنوں کی  مٹی کھود کر اس میں چونا ڈالیں گے ، کیڑے مار ادویات ڈالیں گے ، اور اسے پانی دیں گے ۔  ایسا ہی انسان کا حال ہے ۔  اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنی روح کے اندر اپنا احاطہ ضرور کریں ۔
اشفاق احمد  زاویہ 3 پندرہ روپے کا نوٹ  صفحہ 48

لچھے والا

جب ہم اسکول میں پڑھتے تھے تو ایک ادھیڑ عمر کا شخص جس کا رنگ گندمی اور ماتھے پر بڑھاپے اور پریشانی سے لکیریں پڑہی ہوئیں تھیں ۔ وہ اسکول میں لچھے بیچنے آیا کرتا تھا ۔ اس کے بنائے ہوئے رنگ برنگ  کےلچھے ہم سب کے من پسند تھے ۔ وہ ہمیں ان چینی کے بنے فومی لچھوں کے طوطے ، بطخیں اور طرح طرح کے جانور بھی بنا کر دیا کرتا تھا ۔ ہم اس سے آنے آنے کے لچھے کھاتے اور وہ بڑے ہی پیار سے ہم سے پیش آتا تھا ۔  مجھے اب بھی اس کی بات یاد ہے اور جب ایک سپر پاور نے افغانستان پر حملہ کیا تو بڑی شدت سے یاد آئی حالانکہ میں اسے کب کا بھول چکا تھا ۔ ہم سب بچوں سے وہ لچھے والا کہنے لگا ۔   " کاکا تسیں وڈے ہو کے کیہہ بنو گے  ۔ " ہم سب نے ایک آواز ہو کر کہا کہ " ہم بڑے افسر بنیں گے " ۔  کسی بچے نے کہا میں " فوجی بنوں گا " ۔    وہ ہم سے پیار کرتے ہوئے بولا " پتر جو وی بنو ، بندے مارنے والے نہ بننا ۔  بندے مارن نالوں بہتر اے تسی لچھے ویچن لگ پینا  پر بندے مارن والے کدی نہ بننا " ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  لچھے والا  صفحہ 31

پسند

رزق کا بندوبست کسی نہ کسی طور اللہ تعالیٰ کرتا ہے ، لیکن میری پسند کے رزق کا بندوبست نہیں کرتا ۔ میں چاہتا ہوں کہ میری پسند کے رزق کا انتظام ہونا چاہیے ۔ ہم اللہ کے لاڈلے تو ہیں پر اتنے بھی نہیں جتنا  ہم خود کو سمجھتے ہیں ۔ ہمارے بابا جی کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی آدمی آپ سے سردیوں میں رضائی مانگے تو اس کے لیے رضائی کا بندوبست ضرور کریں ۔  کیونکہ اسے ضرورت ہوگی ۔ لیکن اگر وہ یہ شرط عائد کرے کہ مجھے میری پسند کی رضائی دو ، تو پھر اس کو باہر نکال دو ۔ کیونکہ اس طرح اس کی ضرورت مختلف قسم کی ہو جائے گی ۔ 
اشفاق احمد زاویہ  2  چھوٹا کام  صفحہ 26

اٹھنی

میں نے تھوڑے دن ہوئے ایک ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا ( جیسا کہ میری عادت ہے ہر ایک سے پوچھتا رہتا ہوں ، کیونکہ ہر ایک کا اپنا اپنا علم ہوتا ہے ) کہ آپ کو سب سے زیادہ کرایہ کہاں سے ملتا ہے ۔  اس نے کہا سر ، مجھے  یہ تو یاد نہیں کہ کسی نے خوش ہو کر زیادہ کرایہ دیا ہو ، البتہ یہ مجھے یاد ہے کہ میری زندگی میں  مجھے کم سے کم کرایہ کب ملا ، اور کتنا ملا ۔  میں نے کہا  کتنا ۔ کہنے لگا آٹھ آنے ۔  میں نے کہا وہ کیسے ؟  کہنے لگا جی بارش ہو رہی تھی  یا ہو چکی تھی ، میں لاہور میں نسبت روڈ پر کھڑا تھا ، بارش سے جگہ جگہ پانی کے چھوٹے چھوٹے جوہڑ سے بنے ہوئے تھے ۔ تو ایک بڑی پیاری سی خاتون وہ ایک پٹڑی سے دوسری پٹڑی  پر جانا چاہتی تھی لیکن پانی کی باعث جا نہیں سکتی تھی ۔ میری گاڑی درمیان میں کھڑی تھی ، اس خاتون نے گاڑی کا ایک دروازہ کھولا اور دوسرے سے نکل کر اپنی مطلوبہ پٹڑی پر چلی گئیں اور مجھے اٹھنی دے دی ۔   ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں ، مسکرانا سیکھنا چاہیے اور اپنی زندگی کو اتنا "چیڑا"  (سخت)  نہ بنالیں کہ ہر وقت دانت ہی بھینچتے رہیں ۔   مجھے یقین ہے کہ آپ ڈسپلن کے راز کو پا لیں گے اور خود کو …

شیطان

شیطان بھی کمال کی چیز ہے ۔ وہ گناہ کے خلاف وعظ کر کے بہت سوں کو اپنا چیلا بنا لیتا ہے ۔  وہ کچھ اس طرح سے قائل کرتا ہے کہ  گناہ اور بدی کا تصور لوگوں کے ذہن میں ایک جذباتی ہیجان پیدا کر دیتا ہے ۔ وہ یقین دلا دیتا  ہے کہ خدا تمہارے گناہ تو معاف کر دیگا لیکن تمہارے ارد گرد پھیلے ہوئے بد کردار لوگوں اور بد اصل انسانوں کو  نہیں بخشے گا ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3 روح کی سرگوشی  صفحہ 310

صابن

محبت دلوں پر وہ کام کرتی ہے جو صابن جسم پر ، اور آنسو روح پر کرتے ہیں ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  کارڈیک اریسٹ صفحہ 258

خوشی

ہمارا ایک ساتھی ریڈیو چھوڑ کر ایک ایسی ملازمت سے وابستہ ہو گیا جس میں اس کی تنخواہ ریڈیو کے مقابلے میں کم از کم دو گنی تھی ۔وہ چار پانچ سال اس ملازمت سے وابستہ رہا اور ایک روز اچانک  پھر ریڈیو واپس آگیا ۔ ہم سارے اس کے  گرد جمع ہو گئے اور واپس آنے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگا  "  جس پیشے سے تمہیں محبت ہو اسے اختیار کرتے ہوئے خوشی کا بے بہا خزانہ میسر آتا ہے لیکن جو پیشہ پسند نہ ہو اس میں آمدنی چاہے زیادہ ہو تو اس صورتحال میں روٹی ، کپڑا اور مکان کے ساتھ خوشی بھی خریدنی پڑتی ہے ۔ اور تم تو جانتے ہو کہ خوشی کتنی مہنگی ہوتی ہے "۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  کارڈیک اریسٹ صفحہ 261