خوشی

ہمارا ایک ساتھی ریڈیو چھوڑ کر ایک ایسی ملازمت سے وابستہ ہو گیا جس میں اس کی تنخواہ ریڈیو کے مقابلے میں کم از کم دو گنی تھی ۔وہ چار پانچ سال اس ملازمت سے وابستہ رہا اور ایک روز اچانک  پھر ریڈیو واپس آگیا ۔ ہم سارے اس کے  گرد جمع ہو گئے اور واپس آنے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگا  "  جس پیشے سے تمہیں محبت ہو اسے اختیار کرتے ہوئے خوشی کا بے بہا خزانہ میسر آتا ہے لیکن جو پیشہ پسند نہ ہو اس میں آمدنی چاہے زیادہ ہو تو اس صورتحال میں روٹی ، کپڑا اور مکان کے ساتھ خوشی بھی خریدنی پڑتی ہے ۔ اور تم تو جانتے ہو کہ خوشی کتنی مہنگی ہوتی ہے "۔ 

اشفاق احمد زاویہ 3  کارڈیک اریسٹ صفحہ 261