ترغیب

مرد کے اندر عورت کی ترغیب فطری طور پر موجود ہے ۔  یہ ترغیب فطری اور گہری ہے ۔ جب یہ ترغیب نیام سے نکل کر تلوار بنتی ہے  تو زندگی کی وادی میں ہزاروں عورتیں بے دریغ کچل دی جاتی ہیں ۔ اسی لیے چوری چھپے کی آشنائی کا حکم نہیں ہے ۔  یہ صرف عورت کا تحفظ ہے کہ اس ترغیب کے ہاتھوں وہ روندی نہ جائے ۔  نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم ہے ، عورت کی حفاظت کے لیے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حیا سے ، پردے سے  ، خدا کو تو کوئی فائدہ نہیں 
پہنچتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مرد بھی بیزار ہوتا ہے حیا دار عورت سے ، لیکن عورت محفوظ رہتی ہے ۔  وہ قدم قدم پر مرد کے اندر چھپی ہوئی  ازلی ترغیب سے بچی رہتی ہے ۔ 

 اشفاق احمد من چلے کا سودا صفحہ 119