خود کشی

اگر کسی لڑکی کی شادی زبردستی  اس کی مرضی کے بغیر ہو رہی ہے ، اور وہ رونا چاہتی ہے ، کسی مامے ، چاچے، دوست ، استاد ، پروفیسر کو بتانا چاہتی ہے کہ اسے یہ دکھ ہے لیکن وہ سارے کہتے  ہیں کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے ، دفع ہوجا ۔ 
اب وہ بیچاری خود کشی نہیں کرے گی تو اور کیا کرے گی ۔ جب زندگی اور آواز کا پنجرہ اتنا تنگ کر دیا جاتا ہے کہ وہ اس میں محبوس ہو جاتا ہے اور اس کا سانس گھٹنے لگتا ہے ، تو پھر وہ مرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے ۔ 

اشفاق احمد زاویہ  3  دو بول محبت کے  صفحہ 52