سوئی دھاگہ

بابا جی نے فرمایا کہ سوئی میں دھاگہ ڈالنا سیکھو ۔ اب یہ بڑا مشکل کام ہے ۔  میں کبھی ایک آنکھ بند کرتا اور کبھی دوسری آنکھ کانی کرتا ، لیکن اس میں دھاگہ نہیں ڈلتا تھا ۔ 
خیر ! میں نےان سے کہا کہ اچھا جی دھاگہ ڈال لیا اس کا فائدہ ؟  کہنے لگے اس کا یہ فائدہ ہے کہ اب تم کسی کا پھٹا ہوا کپڑا کسی کی  پھٹی ہوئی پگڑی سی سکتے ہو ۔ جب تک تمہیں لباس سینے کا فن نہیں آئے گا تم انسانوں کو کیسے سیئو گے ۔  تم تو ایسے ہی رہو گے ، جیسے لوگ تقریریں کرتے ہیں ۔  بندہ تو بندے کے ساتھ جڑے گا ہی نہیں ۔  یہ سوئی دھاگہ کا فن آنا چاہیے ۔ ہماری مائیں ، بہنیں ، بیبیاں جو لوگوں کو جوڑے رکھتی تھیں وہ یہ چھوٹے چھوٹے کاموں سے کرتیں تھیں ۔ 

اشفاق احمد زاویہ 2   چھوٹا کام   صفحہ 30