ماں

ماں خدا کی  نعمت ہے اور اس کے پیار کا انداز سب سے الگ اور نرالا ہوتا ہے ۔ بچپن میں ایک بار بادوباراں کا سخت طوفان تھا اور جب اس میں بجلی شدت کے ساتھ کڑکی تو میں خوفزدہ ہو گیا ۔ ڈر کے مارے تھر تھر کانپ رہا تھا ۔ میری ماں نے میرے اوپر کمبل ڈالا اور مجھے گود میں بٹھا لیا تو محسوس ہوا جیسے میں امان میں آگیا ہوں ۔  
میں نے کہا اماں ! اتنی بارش کیوں ہو رہی ہے ؟ اس نے کہا بیٹا ! پودے پیاسے ہیں ۔ اللہ نے انہیں پانی پلانا ہے اور اسی بندوبست کے تحت بارش ہو رہی ہے ۔  میں نے کہا ٹھیک ہے پانی تو پلانا ہے مگر یہ بجلی بار بار کیوں چمکتی ہے ؟ وہ کہنے لگیں روشنی کر کے پودوں کو پانی پلایا جائے گا ۔ اندھیرے میں تو کسی کی منہ میں کسی کی ناک میں پانی چلا جائے گا ۔ اس لیے بجلی کی کڑک چمک ضروری ہے ۔ 
میں ماں کے سینے کے ساتھ لگ کر سو گیا ۔ پھر مجھے پتہ نہیں چلا کہ بجلی کس قدر چمکتی رہی یا نہیں ۔ یہ ایک بالکل چھوٹا سا واقعہ ہے اور اس کے اندر پوری دنیا پوشیدہ ہے۔ یہ ماں کا فعل تھا جو ایک چھوٹے سے بچے کے لیے ، جو خوفزدہ ہو گیا ہے اسے خوف سے بچانے کے لیے پودوں کو پانی پلانے کی مثال دیتی ہے ۔ یہ اس کی ایک اپروچ تھی ۔ گو وہ کوئی پڑھی لکھی عورت نہیں تھی ۔ دولت مند ، بہت عالم فاضل ، کچھ بھی ایسا نہیں تھا ۔ لیکن وہ ایک ماں تھی ۔


اشفاق احمد زاویہ 2 خوشی کا راز  صفحہ 32