ظلم اور صبر

ثروت : حضور ! خاکم بدہن  ۔ ۔ ۔ ۔ ظالم کی رسی کیوں دراز ہے اس کو غفورالرحیم  سے  ظلم کرنے کی استعداد اور مہلت اس قدر کیوں ملتی ہے ؟  
شاہ :  اس کی دو وجوہات ہیں ثروت بیگ ۔ ایک وجہ تو یہ کہ اس پر لوٹ آنے کی مہلت خدائے بزرگ و برتر کم نہیں کرنا چاہتا ۔  کبھی تم نے اس ماں کو دیکھا ہے ثروت بیگ جو بچے کو مکتب میں لاتی ہے ۔ بچہ بھاگتا ہے ، بدکتا ہے ، چوری نکل جاتا ہے مکتب سے ۔ ماں لالچ دیتی ہے کبھی سکے کا ۔ کبھی کھانے پینے کی چیزوں کا ۔  کبھی کبھی مکتب میں لانے کے لیے ظلم کا بھی لالچ دینا پڑتا ہے ۔ کیونکہ دنیاوی آدمی کو بس اسی چیز کا شوق ہوتا ہے ۔ 
ثروت : اور دوسری وجہ شاہ علم و دین ۔ 
شاہ :  دوسری وجہ اسباب کی ہے ظالم آدمی در اصل ایک آلہ ہے اسباب کے ہاتھ میں ۔ وہ اللہ کے بندوں کو آزمانے کا سبب بنتا ہے ثروت بیگ ۔ اس کے بغیر صابر آدمی کی آزمائش کیوں کر ہوتی ۔ 

اشفاق احمد  حیرت کدہ  صفحہ 58