نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تفریح

بچو ! اب ہم میں سے کچھ لوگ ایسے پیدا ہو گئے ہیں کہ ان کے دل میں بابا بننے کی خواہش ہی نہیں ہے ۔ میری طبیعت پر اس  بات کا بھی بوجھ پڑا کہ ہمارے ہاں لوگوں کو غلط ایڈریس  بتانے کا رواج بھی  بڑھ رہا ہے ۔  اگر کوئی اجنبی شخص کسی سے کوئی ایڈریس پوچھے تو  جان بوجھ کر غلط بتا دیا جاتا ہے اور  یہ سب کسی غلط نظریے کے باعث نہیں کیا جاتا  بلکہ محض مذاق یا تفریح کے طور پر ہی کیا جاتا ہے ۔ یہ غلط بات ہے ۔ ہمیں اس بات کی تعلیم نہیں دی گئی ہے ۔ ہمیں حکم ہے کہ لوگوں کو درست راستے پر چلائیں ۔ بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھائیں ۔ لوگوں کو آسانیاں اور مدد دیں ۔ یہ ہمارا طرء امتیاز ہونا چاہیے ۔ اس طرح کی چھوٹی چھوٹی برائیاں بڑی بن جاتی ہیں ۔ اور یہ چھوٹی چھوٹی محبت کی جھرنیں محبت اور پیار کا ایک بڑا پر نالہ بن جائیں گی کہ اس کی چھینٹیں اور کرنیں ہماری سب کی زندگیوں کو تابناک بنا دیں گی ۔

اشفاق احمد زاویہ 3 قناعت پسندی صفحہ 210

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…