نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تفریح

بچو ! اب ہم میں سے کچھ لوگ ایسے پیدا ہو گئے ہیں کہ ان کے دل میں بابا بننے کی خواہش ہی نہیں ہے ۔ میری طبیعت پر اس  بات کا بھی بوجھ پڑا کہ ہمارے ہاں لوگوں کو غلط ایڈریس  بتانے کا رواج بھی  بڑھ رہا ہے ۔  اگر کوئی اجنبی شخص کسی سے کوئی ایڈریس پوچھے تو  جان بوجھ کر غلط بتا دیا جاتا ہے اور  یہ سب کسی غلط نظریے کے باعث نہیں کیا جاتا  بلکہ محض مذاق یا تفریح کے طور پر ہی کیا جاتا ہے ۔ یہ غلط بات ہے ۔ ہمیں اس بات کی تعلیم نہیں دی گئی ہے ۔ ہمیں حکم ہے کہ لوگوں کو درست راستے پر چلائیں ۔ بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھائیں ۔ لوگوں کو آسانیاں اور مدد دیں ۔ یہ ہمارا طرء امتیاز ہونا چاہیے ۔ اس طرح کی چھوٹی چھوٹی برائیاں بڑی بن جاتی ہیں ۔ اور یہ چھوٹی چھوٹی محبت کی جھرنیں محبت اور پیار کا ایک بڑا پر نالہ بن جائیں گی کہ اس کی چھینٹیں اور کرنیں ہماری سب کی زندگیوں کو تابناک بنا دیں گی ۔

اشفاق احمد زاویہ 3 قناعت پسندی صفحہ 210

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15