نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

March, 2013 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اصلی پیر

جو اصلی پیر ہوتا ہے ناں ،  اس کی کوئی طلب نہیں ہوتی ۔ اسے بندے سے کچھ لینا نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی ساری رمزیں اوپر والے سے چلتی ہیں ۔  خدائی کی لوڑیں وہ پوری کر سکتا ہے ۔ اوپر والے کو منانے کی طاقت ہوتی ہے اس میں ، وہ اوپر والے کا یار جو ہوا۔ 
اشفاق احمد  من چلے کا سودا  صفحہ 171

بھید

صبح جب ہم  فجر کی نماز پڑھ  کے سیر کے لیے نکلتے ہیں تو ہمیں جھک کر اپنے جوتے پہننے پڑتے ہیں ۔ اور جب مسجد سے نکلنے سے پہلے جوتے پہن رہے ہوتے ہیں  تو اللہ تعالیٰ ہمارے پاس روز آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کہاں جا رہے ہو مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو ۔ تو ہم میں سے ایک کہتا ہے کہ میں واپڈا دفتر جا رہا ہوں ، آپ کو کیسے ساتھ لے جاؤں ۔ دوسرا شخص کہتا ہے کہ جی میرا ٹیلیفون کا محکمہ ہے ۔ میں آپ کو وہاں نہیں لے جا سکتا اور میرے جیسے رٹائر آدمی کہتے ہیں آپ ہمارے گھر جا کر کیا کریں گے اور اسی طرح ہم سب یک زبان ہو کر کہتے ہیں اللہ تعالیٰ آپ یہیں رہیں ہم پھر کبھی آپ سے مل لیں گے اور ہم نے ظہر کے وقت آنا ہی ہے ناں ، تب آپ سے ملاقات ہو جائے گی ۔ آپ ایسا نہ کرنا کہ ہمارے گھروں میں ہمارے دفتروں میں آجائیں کیونکہ ہمارا " بھید "  آپ پر کھلنا نہیں چاہیے  کہ ہم اپنے دفاتر میں کیا کرتے ہیں ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3 اللہ میاں کی لالٹین  صفحہ 110

احساسِ ندامت

کچھ لوگ ندامت کا احساس بڑے فخر سے کرتے ہیں ۔ یہ بھی ان کی انا کا ایک مظہر ہوتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں توبہ توبہ ۔ ۔ ۔  جوانی میں بڑے گناہ کیے ۔ اب بھی میں اپنے کرتوتوں سے باز نہیں آتا ۔ بظاہر تو وہ افسوس کرتے نظر آئیں گے مگر اندر سے وہ فخر کر رہے ہوں گے ۔  جب انا کو سارے نپل چھڑوائے جاتے ہیں تو سب سے آخری نپل جو اس کے منہ میں رہ جاتا ہے وہ احساسِ ندامت کا ہوتا ہے ۔ اس ندامت کے احساس سے وہ لوگوں پر برتری کا رعب جماتا ہے ۔ جب اپنی منفی حرکتوں کا احساس ہونے لگے تو ان کو ترک کرنا باطن کے سفر کا پہلا قدم ہے ۔ ان کے اظہار کا نہیں ۔ 

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 528

عزتِ نفس

جب تک میں اور آپ احترامِ آدمیت کا خیال نہیں رکھیں گے، اور اپنے لوگوں کو ، پاکستانیوں کو عزتِ نفس نہیں دیں گے روٹی کپڑا کچھ نہ دیں ان کی عزتِ نفس ان کو لوٹا دیں ۔ مثال کے طور پر آپ اپنے ڈرائیور کو سراج دین صاحب کہنا شروع کر دیں ۔ اور اپنے ملازم کے ساتھ "صاحب " کا لفظ لگا دیں ۔  جب تک یہ نہیں ہوگا اس وقت تک ہماری روح کے کام تو  بالکل رکے رہیں گے اور دنیا کے کام بھی پھنسے ہی رہیں گے ۔  اللہ تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے آمین 
اشفاق احمد زاویہ 2  سائیکو اینالسس صفحہ 86

یومِ آخرت

انسان اپنے رب کا بڑا ہی نا شکرا ہے ۔ اور بے شک وہ خود بھی اس بات کو خوب جانتا ہے ۔ اور بلاشبہ وہ مال سے سخت محبت کرنے والا ہے ۔  کیا نہیں جانتے اس وقت کو جب قبروں سے مردے اٹھائے جائیں گے ۔ اور سینوں کو سب راز ظاہر کر دیے جائیں گے ۔  بے شک ان کا رب اس دن ان کے حال سے خوب واقف ہوگا ۔  آخری آیت پر نوجوان سمندر خان نیازی کی آنکھوں سے آنسو جھرنوں کی طرح بہنے لگے ۔ حالانکہ نہ وہ مال سے محبت کرتا تھا نہ اس کے پاس مال تھا ۔ اور نہ ہی اس کے سینے میں کوئی مخفی راز تھا ۔ وہ بس اپنے خدا کی بات سے اور اللہ کے خوف سے روتا تھا ۔ اور اپنی چھوٹی سی سیاہ داڑھی کو آنسوؤں سے بھگوتا تھا ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ39

غرض

جو اپنی غرض کے لیے تم سے دوستی رکھے ، اس کی دوستی  سے ہٹ جاؤ ۔  اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ560

جھولی

کئی دفعہ اللہ کی طرف سے کوئی چیز ہم پر اجاگر ہو جاتی ہے ۔ اور اللہ ہمیں معلوم دنیا سے ہٹا کر لا معلوم کی دنیا سے بھی علم عطا کرتا ہے ۔ اور  انہیں حاصل کرنے کے لیے اور انہیں اپنا نصیب بنانے کے لیے میرے اور آپ کے پاس ایک جھولی ضرور ہونی چاہیے ۔ جب تک ہمارے پاس پھیلانے کے لیے اور حاصل کرنے کے لیے ایک جھولی نہیں ہوگی ، اس وقت تک وہ نعمت جو اترنے والی ہے وہ اترے گی نہیں ۔ رحمت ہمیشہ وہیں اترتی ہے جہاں جھولی ہو اور جتنی بڑی جھولی ہوگی اتنی بڑی نعمت کا نزول ہو گا ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  بُش اور بلیئر مت بنیے  صفحہ 186

پریم جل

مرد عورت سے ہمہ وقت محبت نہیں کر سکتا ۔ وقفے وقفے کے بعد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی فرصت کے مطابق ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی دہاڑی  کے تحت وہ عورت کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔ لیکن عورت سارا وقت توجہ چاہتی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہر وقت محبت چاہتی ہے ۔ یہ بیل پریم جل کے بغیر سوکھنے لگتی ہے اور سنولا کر رہ جاتی ہے ۔ 
اشفاق احمد من چلے کا سودا صفحہ 166

خوشی و راحت

صرف وہی کرو جو تمہیں کرنا چاہیے، وہ نہ کرو جو تمہاری خواہش ہے اور جس پر تمہارا جی راضی ہے۔ پہلے پہل اس میں دقت ہوگی  اور بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ لیکن بعد میں " جو تمہیں  کرنا چاہیئے" تمہاری خواہش اور تمہاری مرضی بن جائے گا ۔  بس یہی خوشی ہے اور یہی راحت کا سامان ہے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 529

مرشد

مرشد کیا ہے ؟ مرشد کیا کرتا ہے ؟  کچھ بھی نہیں کرتا ۔ کوئی کمال نہیں دکھاتا ۔ وہ آپ کے اندر پیاس پیدا کرتا ہے ۔  پیاس بڑھاتا ہے تا کہ آپ کھل کے پانی کی طرف بڑھ سکیں۔ آپ اپنے آپ کو پہچان سکیں ۔ اور دوئی کا کنارہ چھوڑ کر وحدت کے دریا میں چھلانگ لگا کر اپنی پیاس بجھا سکیں ۔ یہ چھلانگ صرف اس وقت لگائی جا سکتی ہے جب آپ کے اندر خوف کے  مقابلے میں پیاس زیادہ ہو اور پیاس نے آپ کو تڑپا کے رکھ دیا ہو ۔ 

 اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 518

"کمبر"

میری بلی "کمبر" فرش سے کود کر میرے پیٹ پر آ گری تھی ، اور اب وہاں سے چل کر میرے سینے پر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چھینک ماری کہ کب تک لیٹے رہو گے ، میرے دودھ کا وقت ہوگیا ہے اور تم کو کوئی فکر نہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے سینے پر بیٹھ کر خرخر کرنے لگی ۔ پھر آنکھیں بند کر کے مراقبے میں چلی گئی ۔ میں دیر تک اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتا رہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی طرح لیٹے لیٹے مجھے خیال آیا کہ اگر میں کمبر ( بلی ) کی طرح ساری فکریں چھوڑ کر اپنے اللہ کی یاد میں کود جاؤں تو کیا مجھے وہ سب کچھ نہیں ملے گا جو اس بلی کو ملتا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔خوراک، رہائش ، توجہ ، محبت ، کیئر۔  اگر میرے جیسا سست کم ہمت اپنی بلی پر اس قدر توجہ دیتا ہے تو کیا میرا خدا میرے لیے سب کچھ نہیں کرے گا۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 428

خلوت ، جلوت

خدا سے ایسی محبت ہونی چاہیے جیسے بہن اور بھائی کی محبت ہوتی ہے ، یا ماں اور بچے کی محبت ہوتی ہے ۔ایسی محبت نہیں ہونی چاہیے جو عاشق و معشوق  اور میاں بیوی کے درمیان ہوتی ہے ۔ پہلی قسم کے لوگ اپنی محبت  کا اظہار برملا کر سکتے ہیں ۔ جلوت میں خلوت میں ، گھر میں ، سرراہے ، محفل میں تنہائی میں ۔ لیکن دوسری قسم کی محبت کرنے والے صرف خلوت میں اور تنہائی میں اپنی محبت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 433

قیدی

افریقہ کے جنگلوں میں ایک مہم جو کسی تلاش میں جا رہا تھا ۔ اس کو وحشیوں نے گھیر کر ختم کرنا چاہا تو اس نے وحشی قبائل کو چند چھوٹے چھوٹے تحائف اور بیکار سی چیزیں دے کر انہیں رام کر لیا ۔ آگے پھر وہ پکڑا گیا ۔ یہاں بھی اس نے قلم، چاقو سگریٹ لائٹر وغیرہ دے کر انہیں راضی کر لیا ۔ اور آگے بڑھ گیا ۔ ۔ ۔ ۔ یہی حال باطن کے سفر کا ہے ۔ اس میں بھی کچھ چھوٹی موٹی چیزیں دے کر اور کچھ چھوڑ کر آگے کا سفر اختیار کرنا پڑتا ہے۔  مجمع میں سے ایک شخص نے اٹھ کر کہا  میں اپنے باطن کے سفر کے لیے ایک چیز چھوڑتا ہوں اور وہ ہے لوگوں کو ہر حال میں خوش رکھنے کی آرزو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج کے بعد سے میری  یہ آرزو نہیں رہے گی ۔ اب تک میں ہر شخص کو خوش رکھنے کی تمنا کا ایک قیدی تھا ۔ اب میں اس قید سے آزاد ہوتا ہوں ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 568

دباؤ

جب آپ محسوس کرتے ہیں کہ زندگی پر کوئی دباؤ پڑا ہے ، کوئی پریشانی یا الجھن آن پڑی ہے ،  تواس وقت دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ یہ دباؤ جو مجھ پر پڑ رہا ہے اور میرے اندر جو گھٹن پیدا ہو رہی ہے ، یہ مجھے ایک نئی دنیا ، نیا سبق ، اور نیا باب عطا کرنے کے لیے ہو رہی ہے ۔ وگرنہ خدا ظاہر ہے نا انصاف تو نہیں ہے ۔ وہ اپ کو کچھ عطا کرنا چاہتا ہے اور اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ آپ کو چھوٹے سے دباؤ کے امتحان سے گذار کر چیک کر رہا ہے ۔ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ماں کو تکلیف میں سے گذرنا پڑتا ہے ۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ مجھے کہیں سے بنا بنایا کسی ڈپارٹمنٹل اسٹور  سے مل جائے اور مجھے تکلیف برداشت نہ کرنی پڑے ۔  اشفاق احمد زاویہ 3  مسٹر بٹ سے اسلامی بم تک صفحہ 165 

آشنائی

جس طرح باپ بچے کو ہوا میں اچھالتا ہے اور پھر پکڑ لیتا ہے ۔ پھر اچھالتا ہے پھر پکڑتا ہے ۔ ہوا میں بچہ ڈرتا ہے، سہمتا ہے اور بازو میں واپس آنے پر یقین و آسائش سے ہمکنار ہوتا ہے ۔ یہی حال خدا سے آشنائی کا اور نا آشنائی کا ہے ۔ بازوؤں میں آنے کا اور بازوؤں سے نکل جانے کا ہے ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 430

مخلوقِ خدا

خدا سے بات کرنے اور اس کو سننے کے لیے اس کی مخلوق کے درشن کرنا ہوں گے ۔ جو لوگ مخلوق خدا کے متعلق غور کرتے ہیں اور اس کے ہو جاتے ہیں اور مخلوقِ خدا کی  خدمت کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں  اور لوگوں سے کیڑے نکالنا بند کر دیتے ہیں  ان کو کسی بابے ، کسی رہنما یا ہادی کی ضرورت نہیں ہوتی ۔

اشفاق احمد  زاویہ 2  بابے کی تلاش صفحہ 160

خاموشی

خاموشی کی ایک دنیا ہے ، اس میں اگر آپ کبھی داخل ہو سکتے ہیں تو پھر ہی آپ اس کا مزہ لے سکتے ہیں ۔ مت پوچھیں کہ ہمیں کسی بابا کا پتہ بتائیں ، آپ خود بابا ہیں ۔ جب آپ کو دیوار سے ڈھو ( ٹیک )  لگا کر آرام سے بیٹھنا آگیا اور دنیا کی سب سے بڑی عبادت  یعنی آپ خاموشی میں داخل ہو گئے تو آپ کے اوپر انوار و برکات کی بارش ہونے لگے گی ۔ اور انواع و اقسام کا رزق آپ کا مقدر بنتا چلا جائے گا ۔ 
 اشفاق احمد زاویہ 2 بابے کی تلاش  صفحہ 159

امن و سکون

اگر لوگوں کے ساتھ امن و سکون کی آرزو ہے تو لڑائی بند کر دیں ۔ اپنے راستے پر چلتے جائیں ، اپنے کام کرتے جائیں۔ اگر کوئی آپ کے ساتھ چلتا ہے تو ٹھیک  ہے ، اگر کوئی نہیں جانا چاہتا  سبحان اللہ آپ خود ہی اکیلے چلتے جائیں ۔  غصہ آجائے تو  جیسا فرمایا گیا ہے ، بیٹھ جائیں اور زیادہ آجائے تو لیٹ جائیں ۔ اپنے امن کی پڑیا ساتھ رکھیں ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 509

آدمی اور دنیا

مجھے وہ بات یاد آ رہی ہے جو شاید میں نے ٹی وی پر ہی سنی ہے کہ ایک اخبار کے مالک نے اپنے اخبار کی اُس کاپی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جس میں دنیا کا نقشہ تھا ۔ اور اس نقشے کو 32 ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ۔ اور اپنے پانچ سال کے کمسن بیٹے کو آواز دے کر بلایا اور اس سے کہا کہ لو بھئی یہ دنیا کا نقشہ ہے جو ٹکڑوں میں ہے اس جوڑ کر دکھاؤ ۔ اب وہ بیچارہ تمام ٹکڑے لے کر پریشان ہو کے بیٹھ گیا ۔  کیونکہ  اب سارے ملکوں کے بارے میں کہ کون کہاں  پر ہے میرے جیسا  بڑی عمر کا آدمی بھی نہیں جانتا ہے ۔ وہ کافی دیر تک پریشان بیٹھا رہا ۔ لیکن کچھ دیر بعد اس نے تمام کا تمام نقشہ درست انداز میں جوڑ کر اپنے باپ کو دے دیا ۔ اس کا باپ بڑا حیران ہوا اور کہا کہ بیٹا مجھے اس کا راز بتا کیونکہ اگر مجھے اس نقشے کو جوڑنا پڑتا  تو میں نہیں جوڑ سکتا تھا ۔  اس پر اس لڑکے نے کہا کہ بابا جان میں نے دنیا کا نقشہ نہیں جوڑا بلکہ نقشے کی دوسری طرف سیفٹی بلیڈ کا ایک اشتہار تھا اور اس میں ایک شخص کا بڑا سا چہرہ تھا جو شیو کرتا دکھایا گیا تھا ۔ میں نے سارے ٹکڑوں کو الٹا کیا اور اس آدمی کو  جوڑنا شروع کیا اور چار منٹ کی مدت میں میں نے پور…

مُروّت

ایک درویش جنگل میں جا رہے تھے ۔ وہاں ایک بہت زہریلا  کوبرا سانپ پھن اٹھائے بیٹھا تھا ۔  اب ان درویشوں،سانپوں، خوفناک جنگلی جانوروں اور جنگلیوں  کا ازل سے ساتھ رہا ہے ۔  وہ درویش سانپ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور وہ بیٹھا پھنکار رہا تھا ۔  انہوں نے سانپ سے کہا ناگ راجا یار ایک بات تو بتا !  کہ جب کوئی تیرے سوراخ کے آگے جہاں تو رہتا ہے ، بین بجاتا ہے تو تُو باہر کیوں آ جاتا ہے ۔ اس طرح  تو تجھے سپیرے پکڑ لیتے ہیں ۔ سانپ نے کہا ،  صوفی صاحب بات یہ ہے کہ اگر کوئی تیرے دروازے پر آ کر تجھے پکارے تو  یہ شرافت اور مُروّت سے بعید ہے کہ تُو باہر نہ نکلے ۔  اور اس کا حال نہ پوچھے ۔  میں اس لیے باہر آتا ہوں کہ وہ مجھے بلاتا ہے تو یہ شریف ادمیوں کا شیوہ نہیں کہ وہ اندر ہی گھس کر بیٹھے رہیں  ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 2 تکبر اور جمہوریت کا بڑھاپا  صفحہ 103

فرعونیت

خواتین و حضرات !  ہماری زندگی میں اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ معاشرتی زندگی میں آپ کی کسی ایسے مقام پر بے عزتی ہو جاتی ہے  کہ آپ کھڑے کھڑے موم بتی کی طرح پگھل کر خود اپنے قدموں میں گر جاتے ہیں ۔  انسان اکثر دوسروں کو ذلیل و خوار کرنے کے لیے ایسے فقرے مجتمع کر کے رکھتا ہے کہ وہ اس فقرے کے ذریعے وار کرے اور دوسرے پر حملہ آور ہو اور پھر اُن کی زندگی اور اُن کا جینا محال کر دے ۔ یہ بھی تکبر کی ایک قسم ہوتی ہے ۔ ہمارے مذہب میں یہ روایت بہت  کم تھی ۔ اگر تھی تو ہمارے پیغمبر محمد ﷺ اپنی تعلیمات کے ذریعے لوگوں کو اس فرعونیت سے نکالتے رہتے تھے ، جس کا گناہ شداد ،  فرعون ، نمرود اور ہامان نے کیا تھا ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 2  تکبر اور جمہوریت کا بڑھاپا صفحہ  102

الرحمٰن

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم     شروع اللہ کے نام  سے جو بڑا  مہربان بڑے رحم والا ہے 
 فرمایا : صاحبو ! اللہ تعالیٰ پاک ہے ۔ پاک ہی اسے پا سکتا ہے ۔ یہ پاکی اللہ کے محبوب سے عطا ہوتی ہے ۔ اور اس کی بدولت مخلوق کے ساتھ  پورا رہنے کا ذاتی اور صفاتی علم عطا ہوتا  ہے ۔  الرحمٰن کی یہ شان ہے کہ وہ رحم کرتا ہے ۔ اورجب کوئی مقصود سے دور ہو رہا ہو،  تو  اسے قریب کرنے کے لیے سختی بھی کرتا ہے ۔ مگر یہ سختی وقتی ہوتی ہے ۔ پھر اس کا رحم ہی ہوتا ہے ۔ یہ اللہ کا کرم ہے ۔ جس  پر اللہ کا کرم ہو اسے قریب کر دے ۔ اس طرح بسم اللہ  عمل سے ہوتی ہے ۔ ورنہ قول کی تکرار سچا  ثابت ہونے کے لیے درکار نہیں ۔ جس قول کا عمل شاہد نہ ہو وہ قول سچا ثابت نہیں ہوتا ۔ 
 اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 625

نیک عمل

خواتین و حضرات ! اللہ تعالیٰ  فرماتے ہیں کہ  " نماز پڑھو  اور روزے رکھو اور نیک عمل کرو " ۔ اب میں  بڑا حیران بھی ہوتا ہوں اور پھنس جاتا ہوں  کہ  میں نے جب نماز پڑھ لی ، روزہ رکھ لیا تو کیا یہ نیک عمل نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ نے تیسری، نیک عمل کی کیٹیگری کیوں بنائی ہے ۔ میں اب تک کشمکش میں پھنسا ہوا ہوں کہ نیک عمل کیسے کیے جائیں ۔  میری طرح آپ بھی جب  کسی نیک عمل کے بابت سوچیں گے تو آپ کو ارد گرد پر نظر دوڑانی ہوگی ۔ کیوں کہ نیک عمل کے لیے آپ کو بندہ یا جاندار ڈھونڈنا ہوگا ۔
کسی بڑی اماں کو پاس بٹھا کر پوچھنا ہوگا کہ " اماں روٹی کھادی اے کہ نئیں کھادی ۔ تیرے پت نے تینوں ماریا سی، ہن تا نئیں ماردا " ۔  یہ نیک عمل ہے ۔ کسی دوست سے اچھی بات کرنا نیک عمل کے زمرے میں آتا ہے ابا جی کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنے کا نام نیک عمل ہے ۔  لیکن یہ نیک اعمال کرنے  خیر سے ہم نے چھوڑ رکھے ہیں ۔

اشفاق احمد زاویہ 3  لائٹ ہاؤس صفحہ 71

ہدایت پانے والے

ہم تو صرف ہدایت کرنے والے ، اور دوسروں کو اپنی عقل مندی کے قائل کرنے کی کوشش  کرنے والے ہیں۔  جبکہ وہ دیہاتی ، جنہیں ہم گنوار کہتے ہیں ، وہ میری نظر میں ہدایت پانے والے لوگ ہیں ۔ خدا عاجزی کو پسند  کرتا ہے۔ فخر، تکبر اور زعم کے ماروں سے اسے کوئی غرض نہیں ۔ وہ تو اس کی طرف قدم بڑھاتا ہے ، جو  اسے پیار سے یاد کرتا ہے ، سوچتا ہے اور محبت رکھتا ہے ۔  
اشفاق احمد زاویہ 3 لچھے والا  صفحہ 29

سِلوَٹ

خواتین و حضرات ! چاہے ہمارے پاس کتنی ہی اچھی استری کیوں نہ ہو جب تک ہم اس کے پلگ کو بجلی  سے" کنیکٹ " نہیں   کریں گے وہ گرم ہو کر کپڑے کی سلوٹیں نہیں نکالے گی ۔  اور جب تک ہم خدا کی ذات سے رابطہ اور تعلق استوار نہیں کریں گے ، زندگی کی سلوٹیں بھی دور نہیں  ہوں گی ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  پتنگ باز سجنا  صفحہ 78

شکایت

آئے روز لوگ شکایت کرتے ہیں کہ جی پولیس والے بڑا تنگ کرتے ہیں ۔  مزدور آجر کے رویے سے نالاں ہیں ۔ اینٹیں لگانے والا ٹھیکیدار سے پریشان ہے ۔  اپنی جگہ پر سب ہی ناخوش ہیں ۔  لیکن جو بات سوچنے کی ہے وہ یہ ہے کہ کیا ہم خود ٹھیک ہیں ۔  اگر کوئی ہمارا ماتحت یا  ہم سے کم تر کوئی غلطی کرے گا تو کیا ہم اسے معاف کر دیں گے ۔

اشفاق احمد زاویہ 3  رویوں کی تبدیلی صفحہ 24

آسان راستہ

ایک سمجھدار انسان جب زندگی کے سفر پر نکلتا ہے تو  آسان راستہ اختیار کرتا ہے ۔ وہ بلندی پر جانے کا پروگرام بنا کر نہیں نکلتا کہ نشیب میں اترنے کے خوف سے کانپتا رہے ۔ وہ تو بس سفر پر نکلتا ہے اور راستے سے جھگڑا نہیں کرتا۔ جو جھگڑا نہیں کرتا وہ منزل پر جلد پہنچ جاتا ہے ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 533

دکھوں کی البم

ایک زمانے میں ، میں ایک پرچہ ، رسالہ  نکالتا تھا ۔ ماہنامہ بڑا خوبصورت رنگین  " داستان گو " اس کا نام تھا ۔ تو ہماری مالی حالت درمیانی تھی ۔  لیکن اس پرچے کو نکالنا میں اپنا فرض سمجھتا تھا ۔  کیوں کہ لوگوں کو وہ بہت پسند آگیا تھا ۔  تو اتنے پیسے نہیں تھے ۔ ایک دفعہ اس کا کاغذ خریدنے کے لیے گیا ۔ یہاں ایک گنپت روڈ ہے ، وہاں پر کاغذ کی مارکیٹ ہے ۔ وہاں کاغذ خریدنے گیا تو کاغذ کا ایک رِم خریدا تو میرے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ میں اس کاغذ کے رِم کو کسی تانگے میں ، کسی رکشہ میں یا کسی ریڑھی میں رکھ کے لے آتا تو میں نے کاغذ کا رِم لیا اسے دوہرا کیا اور کندھے پر رکھ لیا ۔ بائیسکل میں چلاتا تھا بڑی اچھی بائیسکل تھی میرے پاس ۔ تو میں سائیکل پر سوار ہوگیا اور جب چلا تو انار کلی میں اُس وقت بھی خاصا رش ہوا کرتا تھا ۔ تانگے آ رہے ہیں،ریڑھے آ رہے ہیں، سائیکلیں اور جو بھی اس زمانے کی ٹریفک تھی وہ چل رہی تھی ۔ تو کرنا خدا کا کیا ہوا  کہ وہ کاغذ کا جو رِم ہے ، اس کے جو بیٹن لگا ہوتا ہے اوپر کا ، مضبوط خاکی کاغذ وہ پھٹ گیا اور پھر دیکھتے دیکھتے چھر۔ر۔ر۔ر۔ر۔کر کے پانچ سو کاغذ جو تھے و…