دباؤ

جب آپ محسوس کرتے ہیں کہ زندگی پر کوئی دباؤ پڑا ہے ، کوئی پریشانی یا الجھن آن پڑی ہے ،  تواس وقت دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ یہ دباؤ جو مجھ پر پڑ رہا ہے اور میرے اندر جو گھٹن پیدا ہو رہی ہے ، یہ مجھے ایک نئی دنیا ، نیا سبق ، اور نیا باب عطا کرنے کے لیے ہو رہی ہے ۔ وگرنہ خدا ظاہر ہے نا انصاف تو نہیں ہے ۔ وہ اپ کو کچھ عطا کرنا چاہتا ہے اور اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ آپ کو چھوٹے سے دباؤ کے امتحان سے گذار کر چیک کر رہا ہے ۔ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ماں کو تکلیف میں سے گذرنا پڑتا ہے ۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ مجھے کہیں سے بنا بنایا کسی ڈپارٹمنٹل اسٹور  سے مل جائے اور مجھے تکلیف برداشت نہ کرنی پڑے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  مسٹر بٹ سے اسلامی بم تک صفحہ 165